Wednesday, 29 June 2016

کلمہ توحید کی فضیلت

السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
خوش رہیں ، اللہ اپ سب کو اپنی حفظ و امان مین رکھے اور آسانیاں عطا فرمائے ـ امین ـ
لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ ، لہٌ الملک ولہ الحمد یحیی ویمیت وھو علی کل شئٍ قدیر
کم از کم ایک مرتبہ اور زیادہ سے زیادہ جتنا بھی ہو سکے یہ کلمہ توحید پڑھا کرے :۔
حدیث شریف میں ایا ہے کہ :۔
جو شخص اس کلمہ توحید کو دس مرتبہ پڑھے گا تو وہ اس شخص کے مانند ہو گا جس نے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی اولاد (عرب قوم) میں سے چار نفر آزاد کئے ہوں :۔
ایک اور حدیث میں ہے کہ :۔
اور جو سو مرتبہ یہ کلمہ پڑھے گا اس کو دس غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا اور اس کے لئے سو نیکیاں لکھ دی جائیں گی اور اس کی سو بدیاں مٹا دی جائیں گی اور یہ کلمہ اس کے لئے شیطان سے بچاو کا سامان (محافظ) ہو گا اور قیامت کے دن کوئی بھی اس سے افضل عمل پیش کرنے والا نہ ہو گا بجز اس شخص کے جس نے اس سے بھی زیادہ یہ کلمہ پڑھا ہو گا ـ
یہی وہ کلمہ ہے جو حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو سکھلایا تھا (مگر اس نے اس سے کام نہ لیا اور طوفان میں ہلاک ہو گیا) اس لئے کہ اگر تمام آسمان ایک پلڑے میں (رکھے) ہوں (اور یہ کلمہ دوسرے پلڑے میں) تو یہ کلمہ ان سے بڑھ جائے گا اور اگر (سب) آسمان حلقہ کے مانند ہوں تو یہ کلمہ (اپنے بوجھ سے) ان کو ملا دے گا
کثرت سے یہ کلمہ پڑھا کرے:۔
لا الہ الا اللہ واللہ اکبر ولا حول ولا قوتہ الا باللہ العلی العظیم
لا الہ الا اللہ اور واللہ اکبر دو کلمے ہیں ، ان میں سے ایک ( لا الہ الا اللہ ) تو عرش سے کہیں رکتا ہی نہیں اور دوسرا (اللہ اکبر) آسمان اور زمین کے درمیان (فضا) کو بھر دیتا ہے
یہ دونوں کلمے ولا حول ولا قوتہ الا باللہ العلی العظیم کے ساتھ (مل کر) تو روئے زمین پر جو شخص بھی ان (تینوں کلمات) کو پڑھے گا اس کی خطاؤں ( اور گناہوں) کا ضرور کفارہ کر دیا جائے گا اگرچہ وہ سمندر کے جھاگوں کے برابر ہوں ـ
انشاُٗاللہ آئندہ تحریر میں مزید بات ہو گی ـ اللّہ اپ کا حامی و ناصر ہو اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا ہوں ـ امین ـ

Tuesday, 28 June 2016

قوتِ فیصلہ کی کمی

لسلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
خوش رہیں ، اللہ اپ سب کو اپنی حفظ و امان مین رکھے اور آسانیاں عطا فرمائے ـ امین ـ
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اپ نے کوئی کام کرنا ہے لیکن اپ محسوس کرتے ہیں کہ وہ اپ سے نہیں ہو سکے گا ـ اپ خود کو اس قابل نہیں پاتے کہ اس کام کو سرانجام دیں سکیں اور ایسا تبھی ہوتا ہے جب اپ میں فیصلہ کرنے کی طاقت نہین ہوتی اور نہ ہی یقین کہ میں کر سکتا ہوں ـ
پریشانی انسان کو یا تو
توڑ دیتی ہے
یا
مضبوط بنا دیتی ہے
اوریہی وہ لمحہ ہے جب اپ کی ساری زندگی کا فیصلہ ہو جاتا ہے کہ اپ پریشانی کا مقابلہ کریں گے یا پھر کبوتر کی طرح انکھیں بند کر کے بیٹھ جائیں گے ـ اور حالات کے بدلنے کا انتظار کرتے رہیں گے ـ یقین کریں حالات کو بدلنے کوئی نہیں آۓ گا یہ اپ کو خود اپنی محنت اور بروقت فیصلہ سے بدلنے ہیں ـ
جب ایسا ہو کہ اپ کسی کام کو کرنا چاہتے ہیں لیکن کر نہیں پا رہے تو سب سے پہلے اپ یہ فیصلہ کریں کہ مجھے یہ کام کرنا ہے یا نہیں ـ
اگر کام کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو پھر اپ وہ وجوہات تلاش کریں ، جن کی وجہ سے اپ کا کام نہیں ہو رہا ـ اب ان وجوہات میں سے کچھ ایسی ہوں گی ، جو اپ کو ناممکن لگ رہی ہوں گی اور کچھ ایسی ہوں گی جو قابلِ عمل ہوں گی تو سب سے پہلے ممکن صورتِ حال سے کوشش شروع کریں ـ اپ دیکھیں گے کہ آہستہ آہستہ اپ کی قوتِ ارادی بڑھنے لگے گی اور ایک نئی ہمت اور حوصلہ پیدا ہو گا ـ ہو سکتا ہے کہ کچھ ناکامی بھی راستے میں آئے، لیکن اپ نے اس کی پرواہ نہیں کرنی اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے کامیابی کی طرف چلنا ہے کیونکہ مضبوط قوتِ ارادی کے ساتھ ہی اپ کامیاب ہوں گے ـ
اب آتے ہیں کہ اگر اپ کام نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو کیا ہو گا ـ اگر اس وقت اپ یہ سوچیں کہ زیادہ سے زیادہ کیا ہو گا مجھے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا ـ کم از کم مجھے ایک بھرپور کوشش تو کرنی چاہیے ـ ہم ناکامی کے خوف کی وجہ سے کام نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں لیکن جب اپ ناکامی کا سامنا کرنے کے لئے پہلے ہی خود کو تیار کر لیں تو زیادہ اسانی ہو گی کیونکہ اگر اپ ناکام ہوں گے تو خود کو باور کرائیں گے کہ مجھے علم تھا ـ اور اگر کامیاب ہو گئے تو یقیناً اپ میں جس خود اعتمادی کا اضافہ ہو گا وہ اپ کی آئندہ زندگی کو بنا دے گی ـ ہم ناکام ہونے کے خوف سے کوشش نہیں کرتے ، پہلے ہی کامیابی کا فیصلہ کر لیتے ہیں ـ اور ناکام ہونے پر کوشش چھوڑ کر بیٹھ جاتے ہیں ـ
تیسری چیز جو ایسے وقت میں ہماری مدد کرتی ہے وہ ہمارے ساتھ اردگرد کے لوگ ہیں جو اپ کی ہمت افزائی کریں اور فیصلہ کرنے میں مدد کریں اس بے یقینی کی صورتِ حال سے نکلنے میں مدد کریں تو بھی اپ کامیاب ہونے میں زیادہ وقت نہیں لیں گے ـ کیونکہ ناکامی کے وقت وہ اپ کو حوصلہ دیں گے اور کامیابی میں ہمت افزائی کریں گے ـ
انشاُٗاللہ آئندہ تحریر میں مزید بات ہو گی ـ اللّہ اپ کا حامی و ناصر ہو اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا ہوں ـ امین ـ

Monday, 27 June 2016

وسائل کم اور مسائل زیادہ

السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
خوش رہیں ، اللہ اپ سب کو اپنی حفظ و امان مین رکھے اور آسانیاں عطا فرمائے ـ امین ـ
جب زندگی میں ایسا وقت آئے کہ اپ کے پاس وسائل کم ہوں اور مسائل زیادہ ، تو ایسے میں زندگی کی مشکلات میں اضافہ ہو جاتا ہے ـ کیونکہ ہمیں یہ علم ہی نہیں ہوتا کہ ان حالات میں کیا کریں ـ اور نہ ہی ہم نے سوچا ہوتا ہے کہ ایسے حالات میں کیا کرنا ہے اور کس طرح کرنا ہے ـ ہم اچھے خاصے سمجھ دار اور پڑھے لکھے ہونے کے باوجود ضروری اور غیر ضروری کے فرق کو نہیں سمجھ پاتے ـ
مثال کے طور پر
کھانا کھانا ایک ضروری عمل ہے جو کہ گھر میں کھایا جاۓ تو ضروری عمل ہے لیکن ہوٹل میں کھانا غیر ضروری عمل ہے جب وسائل کم ہوں ـ بس اسی فرق کو جب اپ سمجھ جائیں گے تو اسانی ہو سکتی ہے اور مزید مشکلات پیدا ہونے سے بچا سکتا ہے ـ
بزرگوں کا قول ہے :۔
چادر دیکھ کر پاؤں پھیلائیں
یقیناً یہ بھی کسی ایسی ہی صورتِ حال کے بارے میں کہا گیا ہو گا ـ ہمارے بزرگ بہت عقل مند لوگ تھے انھوں نے زندگی کی مشکلات سے کچھ سیکھنے کے بعد ہی یہ بات کی ہے ـ
لیکن آج ہمارا یہ حال ہوتا ہے کہ سر کو ڈھانپیں تو پاؤں ننگے اور پاؤں ڈھانپیں تو سر ننگا ـ
ایسی صورت میں انسان کے ذہن میں منفی خیالات جنم لیتے ہیں جو ہمیں غلط عمل کی طرف لے کر جاتے ہیں ـ ہماری سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے ـ غلط اور صحیح کا فرق ختم ہو جاتا ہے ـ
جب بھی ایسا وقت اۓ کہ وسائل کم ہوں تو سب سے پہلے ان چیزوں کو ختم کر دیا جاۓ جو غیر ضروری ہیں جن کے بغیر گذارا ہو سکتا ہے ـ اور وہ تمام ضروریات زندگی جو کہ ضروری ہیں انھیں پہلے سرانجام دیں ـ پھر اپنے وسائل کو بڑھانے کی کوشش بھی کرتے جائیں بےشک اس میں اپ کو کامیابی نہ ملے یا تھوڑی کامیابی ملے ـ ہمت اور حوصلے سے وقت گذاریں ـ اور ان لوگوں کی بھی ہمت میں اضافہ کریں جو اپ کی ذات سے وابستہ ہیں ـ یہ یقین رکھیں سدا وقت ایک سا نہیں رہتا اگر اچھا وقت نہیں رہا تو یہ مشکل وقت بھی گزر جاۓ گا ـ
ایک مشکل دن بھی چوبیس گھنٹے سے زیادہ نہیں ہوتا بس برداشت کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیے یہی چیز سیکھنے کے عمل کو بڑھاتی ہے اور اپ کامیابی کی منزل تک پہنچ پاتے ہیں ـ زندگی میں کبھی بھی سب دروازے بند نہیں ہوتے بس کون سا دروازہ ہمارا ہے یہ ڈھونڈنے کے لیۓ محنت کی ضرورت ہے ، صبر کی ضرورت ہے ـ جو اپ کے لئے ہے ، وہ اپ ہی کے لئے ہے ، اسے اپ کے سوا کوئی نہیں لے سکتا ـ اللّہ پر پختہ یقین رکھیں ـ اللّہ پر یقین ، مسلسل محنت ، مضبوط قوتِ ارادی کے ساتھ اپ کامیابی کی منزل سے زیادہ دور نہیں ـ
انشاُٗاللہ آئندہ تحریر میں مزید بات ہو گی ـ اللّہ اپ کا حامی و ناصر ہو اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا ہوں ـ امین ـ

Saturday, 11 June 2016

لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ

السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ

خوش رہیں ، اللہ اپ سب کو اپنی حفظ و امان مین رکھے اور آسانیاں عطا فرمائے ـ امین ـ


جہاں بھی ہو ، جس وقت بھی ہو جتنا ممکن ہو لآاِلٰہَ اِلاَّ اللّہُ کا ذکر کرےـ
حدیث شریف میں ایا ہے کہ :-
وہ ذکر جو کسی وقت ، جگہ اور سبب کے ساتھ مخصوص نہیں وہ لآاِلٰہَ اِلاَّ اللّہُ ہی ہے ـ
سب سے افضل ذکر ہے ـ
دوسری حدیث میں ہے :
یہی سب سے بڑھ کر نیکی ہےـ
ایک اور حدیث میں ایا ہے کہ :۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
قیامت کے دن میری شفاعت سے سب سے زیادہ بہرہ ور وہ شخص ہو گا جس شخص نے دل و جان سے (یعنی) خلوص قلب کے ساتھ لآاِلٰہَ اِلاَّ اللّہُ کہا ہو گا ـ
ایک اور حدیث میں ہے کہ :۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :۔
جاس شخص نے لآاِلٰہَ اِلاَّ اللّہُ کہا اور اس کے دل میں جَو برابر بھی خلوص یا ایمان ہو گا وہ دوزخ سے نکال لیا جائے گا ، اور جس شخص نے یہ کلمہ کہا اور اس کے دل میں گیہوں کے دانہ کے برابر بھی خلوص یا ایمان ہو گا وہ بھی دوزخ سے نکال لیا جائے گا ، اور جس نے یہ کلمہ کہا اور اس کے دل میں ذرہ برابر بھی بھلائی یا ایمان ہو گا وہ بھی دوزخ سے نکال لیا جائے گا ـ
ایک اور حدیث میں ایا ہے کہ :۔
جس شخص نے (دل سے) لآاِلٰہَ اِلاَّ اللّہُ کہا وہ جنت میں ضرور داخل ہو گا اگرچہ اس نے زنا اور چوری (جیسے گناہ) بھی کئے ہوں ، اگرچہ اس نے زنا اور چوری بھی کی ہو ، اگرچہ اس نے زنا اور چوری بھی کی ہو (تین مرتبہ فرمایا)
ایک اور حدیث میں ایا ہے کہ :۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :۔
تم اپنے ایمان کو تازہ کرتے رہا کرو ـ صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایمان کو کس طرح تازہ کریں ، اپ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
کثرت سے لآاِلٰہَ اِلاَّ اللّہُ کہتے رہا کرو ـ
ایک اور حدیث میں ایا ہے کہ :۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لآاِلٰہَ اِلاَّ اللّہُ کو اللّہ تک پہنچنے سے کوئی چیز نہیں روکتی ـ
ایک اور حدیث میں ہے :
لآاِلٰہَ اِلاَّ اللّہُ (کا ذکر) کوئی گناہ باقی نہیں رہنے دیتا ، اور کوئی بھی عمل اس کے برابر نہیں ہے ـ
ایک اور حدیث میں ہے کہ :۔
اگر ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں ترازو کے ایک پلڑے میں ہوں اور لآاِلٰہَ اِلاَّ اللّہُ دوسرے پلڑے میں ہو تو وہ ان سب سے بڑھ جائے گا ـ
اور ایک حدیث میں ایا ہے :۔
جب بھی کوئی بندہ دل سے لآاِلٰہَ اِلاَّ اللّہُ کہتا ہے اس کے لئے آسمانوں کے دروازے کھل جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ عرش تک پہنچ جاتا ہے ، جب تک کہ وہ بڑے بڑے گناہوں سے بچتا رہا ہو ـ
انشاُٗاللہ آئندہ تحریر میں مزید بات ہو گی ـ اللّہ اپ کا حامی و ناصر ہو اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا ہوں ـ امین ـ

Friday, 10 June 2016

یقینِ محکم

السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
خوش رہیں ، اللہ اپ سب کو اپنی حفظ و امان مین رکھے اور آسانیاں عطا فرمائے ـ امین ـ
جب اپ مشکل حالات کا مقابلہ اپنی پوری ہمت اور حوصلے سے کرتے ہیں تو خود اپنے اپ میں ایک یقین کا عنصر پیدا ہوتا ہے کچھ حاصل کر لینے کا، کچھ بننے کا عمل شروع ہوتا ہے ـ جو اپ کو کامیابی کی منزل کی طرف لے کر جاتا ہے ـ اگرچہ کامیابی کا تناسب کم ہی کیوں نہ ہو لیکن وہ جو ایک اپنی ذات میں پیدا ہونے والا یقینِ محکم ہے اس کو ختم نہ ہونے دیں ـ اگر دس میں سے ایک مشکل یا پریشانی میں ہی اپ کو کامیابی کیوں نہ ملی ہو اور کامیابی اور ناکامی کا تناسب ۱/۹ ہی کیوں نہ ہو اپ اس تناسب کو بڑھاتے ہوئے زندگی میں آگے بڑھتے جائیں اپ دیکھیں گے کہ ایک وقت آئے گا یہ تناسب ۹/۱ کا ہو گا ـ اندھیرے میں ایک چھوٹے سے دیے سے روشنی کا دھندلا سا عکس نظر آتا ہے پھر وہ عکس زیادہ واضح ہونا شروع ہوتا ہے اور پھر سب کچھ صاف نظر آنے لگتا ہے ـ کامیابی اور ناکامی میں بھی یہی فرق ہے پہلے کچھ دھندلا سا نظر آئے گا پھر اور واضح ہو گا اور پھر کامیابی سامنے نظر آنے لگے گی ـ
بس کچھ پا لینے کی جستجو ہی انسان کو آگے بڑھنے میں مدد دیتی ہے اس کو اپنی ذات سے ختم نہیں ہونے دینا ہے اور زندگی کے تمام حالات کا مقابلہ کرنا ہے کامیابی خود اپ کے قدم چومتے گی ـ
ابراہیم لنکن
جسے دنیا امریکہ جیسے ملک کے صدر کے طور پر جانتی ہے اس نے اپنی زندگی میں بہت جدوجہد کی ہے ـ جس کام کو شروع کیا ناکامی ہوئی کیا کاروبار، کیا منگنی، کیا سیاست، غرض جس کام کو شروع کیا ناکامی کا ہی منہ دیکھنا پڑا ـ لیکن اس نے ہمت ہیں ہاری ہر بار نئی ہمت اور حوصلے سے کام کیا پوری زندگی میں دو یا تین دفعہ کامیابی ہوئی باقی سب ناکامی ہی کی کہانیاں ہیں لیکن اس نے اپنے یقین کو ٹوٹنے نہیں دیا
کچھ پا لینے کا یقین
کچھ بننے کا یقین
کچھ کرنے کا یقین
اور پھر دنیا نے دیکھا کہ وہ امریکہ کا صدر بنا جو اس کی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی تھی ـ وہ ۱/۹ کی تناسب سے ملنے والی کامیابی ـ
زندگی میں جہد مسلسل سے ہی کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے ـ بس حوصلہ نہیں ہارنا اور ہمت کو ٹوٹنے نہیں دینا، تو پھر کچھ بن جانے کا یقین بڑھے گا اور اپ کامیاب ہوں گے ـ
انشاُٗاللہ آئندہ تحریر میں مزید بات ہو گی ـ اللّہ اپ کا حامی و ناصر ہو اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا ہوں ـ امین ـ

Thursday, 9 June 2016

خود اعتمادی




السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
خوش رہیں اللہ اپ سب کو اپنی حفظ و امان مین رکھے اور آسانیاں عطا فرمائے امین
جب اپ کسی مشکل میں ہوں تو اپ کے پاس دو راستے ہوتے ہیں ـ
ایک تو یہ کہ اپ کو کچھ سمجھ نہیں آتا کیا کریں ـ راستہ دیکھائی نہیں دیتا ـ کوئی ہمدرد نظر نہیں آتا جو اس مشکل سے نکلنے میں مدد کرے یا کوئی ایسا مشورہ دے کہ اپ اس پریشانی سے نکل سکیں ـ کوئی ایسا شخص مل جائے جو ایسا حل بتا سکے کہ ہم اس تکلیف دہ دور سے نکل جائیں ـ ایسے وقت میں ذہن میں منفی خیالات جنم لیتے ہیں اور اپ مزید غلط طرف چلے جاتے ہیں ـ یہ منفی سوچ منفی عمل کی طرف لے کر جاتی ہے اور شیطان کا کام آسان ہو جاتا ہے وہ ہمیں گناہوں کی طرف لے جاتا ہے ـ ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہم کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں ہیں ہماری ہمت جواب دے جاتی ہے ـ ہم جو بھی کام کرتے ہیں وہ غلط ہوجاتا ہے کیونکہ ہم غلط سوچ رہے ہوتے ہیں تو غلطی پہ غلطی ہی ہوتی جاتی ہے
لیکن
دوسری طرف اگر ہم پریشانی میں صرف پریشان ہونے کی بجائے اپنے اپ کو تھوڑا سا حوصلہ دیں کہ میں اس مشکل وقت سے نکل سسکتا ہوں اس پریشانی کا مقابلہ کر سکتا ہوں تو ہمیں کسی بھی شخص کی ضرورت نہیں ہو گی ـ مشکل وقت میں گبھرانے کی بجائے اس سے نکلنے کے بارے میں سوچیں ، مثبت انداز سے چیزوں کو دیکھیں ـ کوئی بھی مشکل ایسی نہیں ہوتی جس کا کوئی حل نہ ہو ـ یہ یقین کر لیں کہ اپ اس پریشانی سے لڑ سکتے ہیں اور پھر لڑنے کی تیاری کر لیں ـ جیسے ہی اپ نے یہ فیصلہ کیا کہ میں اس مشکل وقت سے لڑوں گا ایک خود اعتمادی کا احساس پیدا ہو گا جو اپ کو مثبت سوچ اور پھر مثبت عمل کی طرف لے کر جائے گا ـ سامنے کا راستہ نظر آنے لگے گا ـ اگر اپ پوری طرح کامیاب نہ بھی ہوں تو کسی نہ کسی حد تک کامیابی ضرور ملتی ہے جو ہماری خود اعتمادی میں اضافہ ہی کرتی ہے ـ یہ احساس پیدا کرتی ہے کہ اگر کچھ کرنے کا فیصلہ کر لیا جائے تو پھر کوئی بھی مشکل مشکل نہیں لگتی اور نہ ہی پریشانی کا خیال دل میں آتا ہے ـ نہ ہی اپ کسی دوسرے شخص کی مدد کی ضرورت محسوس کرتے ہیں جو آئے اور اپ کو اس مشکل سے نکالے ـ
اب یہ فیصلہ اپ کو کرنا ہے کہ مشکل میں کون سا راستہ اختیار کرنا ہے ـ
لڑنے اور کامیاب ہونے کا
یا
ہتھیار ڈال دینے کا
انشاُٗاللہ آئندہ تحریر میں مزید بات ہو گی اللّہ اپ کا حامی و ناصر ہو اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا ہوں امین

Tuesday, 7 June 2016

رمضان المبارک

السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
خوش رہیں اللہ اپ سب کو اپنی حفظ و امان مین رکھے اور آسانیاں عطا فرمائے امین ـ


رمضان کا بابرکت مہینہ شروع ہو چکا ہے زیادہ سے زیادہ نیکیاں سمیٹنے کا وقت ہے اللّہ کی بےشمار برکتیں ـ فضیلتیں ـ اور رحمتیں اس ماہ میں نازل ہوتیں ہیں اور منادی پکارنے والا کہتا ہے کہ ہے کوئی جو اس ماہ میں اللّہ کو
منا لے اس کی نعمتوں کو سمیٹ لے ـ
رمضان
رحمتوں کا مہینہ ـ بخشش کا مہینہ ـ گناہوں کی معافی کا مہینہ ـ نیکیوں کو سمیٹنے کا مہینہ ـ جنت کے حصول کا مہینہ ـ جہنم سے چھٹکارے کا مہینہ ـ
بس ہمیں زیادہ سے زیادہ عبادت کرنے کی ضرورت ہے تسبیحات پڑھنے کی ضرورت ہے زندگی کے تمام مسائل تو چلتے ہی رہیں گے لیکن یہ اتنا بابرکت ماہ ہے کہ نیکیوں کا اجر کئی گنا بڑھ جاتا ہے اتنا کہ اگر ہمیں اس کا پتا چل جائے تو ہم خواہش کریں کہ سارا سال رمضان کا مہینہ ہو اور روزہ اس کا اجر تو خود اللّہ کہتا ہے کہ
" روزہ میرے لیئے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا "
اپ خود سوچیں اگر ہماری نیکیوں کے اجر ستر گنا بڑھ سکتے ہیں تو اللّہ کی لامحدود برکتوں اور فضیلتوں کی ہم پر کتنی بارش ہو گی جب ہم اس کی رضا کے لئے روزہ رکھیں گےـ
لیکن ہمارا زیادہ وقت بازار سے خریداری کرنے اور سحری اور افطاری کی تیاری کرنے میں گذر جاتا ہے اگر ہم رمضان سے پہلے ہی کپڑوں کی خریداری کر لیں اور رمضان میں سادہ سحری اور افطاری کا اہتمام کریں گے تو ہمیں عبادت کرنے کا بہت وقت مل جائے گا اور روزے کا جو اصل مقصد ہے کہ غریب کی بھوک کا اندازہ ہو وہ بھی تب ہی پورا ہو گا اللّہ کی لامحدود رحمتوں اور برکتوں کو بھی تب ہی حاصل کیا جا سکتا ہے اس رمضان میں یہ ارادہ کریں کہ روزے کو اس کی مقصدیت کے ساتھ گزاریں گے تو اپ اس ماہ کا صحیح لطف لے سکتے ہیں ـ
نماز کی پابندی کریں ـ قرآن کی تلاوت کریں ـ استغفار پڑھیں ـ زیادہ سے زیادہ پہلا کلمہ پڑھیں ـ درود شریف کثرت سے پڑھیں ـ
انشاُٗاللہ آئندہ تحریر میں مزید بات ہو گی اللّہ اپ کا حامی و ناصر ہو اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا ہوں ـ

Wednesday, 1 June 2016

مثبت اندازِ زندگی


السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
خوش رہیں اللہ اپ سب کو اپنی حفظ و امان مین رکھے اور آسانیاں عطا فرمائے امین
ہمیں جب بھی کوئی پریشانی یا تکلیف ہو تو ہم شور کرنے لگتے ہیں -
ہائے پریشانی ہائے پریشانی
اور پھر یہ ہوتا ہے کہ ہماری سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے ـ ہمارا حوصلہ ٹوٹ جاتا ہے اور فیصلہ کرنے کی قوت نہیں رہتی ہے ـ پھر جب کچھ سمجھ نہیں آتا تو ہم منفی انداز سے سوچنے لگتے ہیں ـ منفی خیالات دماغ میں آنے لگتے ہیں ـ انسان کی ساری خرابی اور بربادی کا عمل یہیں سے شروع ہوتا ہے اور اپ سے ایک کے بعد دوسرا غلط عمل سرزد ہونا شروع ہو جاتا ہے
لیکن اگر
ایسے وقت میں اپنے اپ کو یہ بات سمجھائی جا سکے کہ کوئی بھی مشکل ناممکن نہیں اگر اس کے حل کی طرف جایا جائے
مثال کے طور پر اگر
اپ کو کوئی بھی مشکل یا پریشانی کا معاملہ پیش آئے تو سب سے پہلے اس کے ممکن حل کا سوچیں کہ اس کو کس طرح حل کیا جائے ـ ایک کے بعد دوسرے اور یہاں تک کہ تیسرے کے بارے میں سوچیں اور پھر اس پر عمل کرنا شروع کر دیں ـ اس کو کیسے حل کیا جائے ـ کون سے عوامل اختیار کیے جائیں کہ مشکل آسان ہو جائےـ پھر اپ دیکھیں گے کہ نہ صرف اپ کا حوصلہ بڑھے گا بلکہ زیادہ بہتر طریقے سے مشکل حالات سے نبٹا جائے گاـ مثبت سوچ اور عمل کے ساتھ آگے بڑھ سکیں گے چیزیں آسان ہونا شروع ہو جائیں گی ـ کوئی بھی تکلیف دہ عمل اپ کو ٹوٹنے نہیں دے گا ـ اپ میں قوتِ ارادی بڑھ جائے گی ـ اس طرح صحیح فیصلہ کر کے اپ خود اعتمادی کی دولت سے ہمکنار ہوں گے جو آئندہ زندگی میں بھی اپ کے کام آئے گی ـ
انشاُٗاللہ آئندہ تحریر میں مزید بات ہو گی اللّہ اپ کا حامی و ناصر ہو اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا ہوں امین