Showing posts with label Believe. Show all posts
Showing posts with label Believe. Show all posts

Thursday, 21 July 2016

ہمارا عمل


السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
خوش رہیں ، اللہ اپ سب کو اپنی حفظ و امان مین رکھے اور آسانیاں عطا فرمائے ـ امین ـ



آج کل ہر شخص اس بات کا گلہ کرتا ہے کہ سب لوگوں کے طور طریقے اچھے نہیں ہیں ـ سب لوگ کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں ـ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم آج کل سوشل میڈیا پر جو بھی اچھی بات پڑھتے ہیں اس کو دوسروں کو بھیج دیتے ہیں ، لیکن خود عمل کرنے میں صفر ہیں ـ جبکہ ہمیں پہلے خود عمل کرنا چاہیے اور پھر آگے اپنے دوستوں کو بھیجیں ـ جب ہم کسی بھی اچھی بات کو پڑھیں اور خود عمل کر کے دیکھائیں گے تو پھر ثواب کے لئے دوسرے کو کہنا نہیں پڑے گا اپ کا اچھا عمل دیکھ کر دوسرے خود عمل کریں گے ـ لیکن ہم دوسرے کے عمل کر کے ثواب لینا چاہتے ہیں ـ لیکن یہ سمجھ لیں کہ اپ کو بھی ثواب تبھی ملے گا جب اپ خود اس پر عمل کریں گے ، صرف دوسروں کو نصیحت کرنے سے اثر نہیں ہو گا ، نصیحت کا اثر بھی اس وقت ہوتا ہے جب اپ خود اس پر عمل کر رہے ہوں ـ کہنا آسان ہے اور عمل کرنا مشکل ہے لیکن پہلے اپ کو خود مثال بن کر دیکھانا ہے ـ اسی وقت تو معاشرے میں تبدیلی آئے گی صرف دوسروں کو کہنے سے تو کچھ بھی نہیں ہو گا ـ

ایک دفعہ ایک عورت اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اپنے بچے کے بارے میں عرض کی کہ اپ صلی ال
علیہ وسلم اسے شہد کی ایک قسم کھانے سے منع فرمائیں ، اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو دو دن بعد آنے کے لئے کہا ـ دو دن بعد جب وہ عورت آئی تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بچے کو شہد کھانے سے منع فرمایا ، اس عورت نے عرض کیا کہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دن بعد کیوں منع فرمایا ہے تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس دن تم نے اپنے بچے کو شہد کھانے سے منع کرنے کے لئے کہا تھا تو اس دن میں نے خود بھی وہ شہد کھایا تھا تو میں بچے کو کیسے منع کر سکتا تھا اب میں نے خود بھی وہ شہد کھانا چھوڑا ہے تو تمہارے بچے کو بھی کھانے سے منع کیا ہے ـ
یہ واقعہ سنانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ہمیں بھی پہلے خود اچھی باتوں پر عمل کرنا ہو گا پھر دوسرے لوگوں کو عمل کے لئے کہا جا سکتا ہے ـ اگر اللّہ کے نبی عمل کرنے کے بعد نصیحت کر رہے ہیں تو ہمیں بھی اسی پر عمل کرنا ہو گا صرف کہنا نہیں ہے ـ
اور ایک آخری بات۰۰۰۰
جب اپ کا دوست اسی طرح کی کوئی اچھی اور نیکی کی بات اپ کو بھیجے تو کیا اپ عمل کرتے ہیں جو اپ کے دوست کے لئے ثواب کا ذریعہ بنے؟؟؟؟
سوچئے گا ضرور۰۰۰
انشاُٗاللہ آئندہ تحریر میں مزید بات ہو گی ـ اللّہ اپ کا حامی و ناصر ہو اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا ہوں ـ امین ـ

Tuesday, 19 July 2016

خاندان


السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
خوش رہیں ، اللہ اپ سب کو اپنی حفظ و امان مین رکھے اور آسانیاں عطا فرمائے ـ امین ـ
ماں ، باپ اور بچوں سے مل کر ایک خاندان بنتا ہے اور ایک گھر کی بنیاد پیار ، محبت ، بھروسہ ، سچائی، اعتماد ، ایک دوسرے کا خیال ، دکھ سکھ میں ساتھ دینا ، مشکل حالات سے مل کر لڑنا ، کندھے سے کندھا ملا کر چلنا ، انھی باتوں پر رکھی جاتی ہے ـ اسی لئے ایک گھر کو اپ (گھر پیارا گھر ) کہتے ہیں
جب اپ کے خاندان پر کوئی مشکل وقت آتا ہے، تو گھر کے تمام افراد مل کر اس مشکل وقت سے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں ، ایک دوسرے کی مدد کے لئے موجود ہوتے ہیں ـ اب چاہے وہ پریشانی سارے خاندان کے لئے ہو یا ایک فرد کی ہو سب ساتھ کھڑے ہوتے ہیں ـ ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر اس مشکل وقت سے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں ـ ایک دوسرے کی ہمت بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں ـ مشکل وقت کا ساتھ اور مدد خاندان کے افراد کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا باعث بنتی ہے ـ اور اپ کا یہ یقین بڑھ جاتا ہے کہ میں مشکل میں اکیلا نہیں ، میرے خاندان کے افراد میرے ساتھ ہیں ـ
اسی طرح جب خاندان میں خوشی کا موقع ہو تو اس وقت بھی سب ساتھ ہوتے ہیں ـ جس سے خوشی دگنی ہو جاتی ہے ـ اس وقت اپ کی پہلی خواہش بھی یہی ہوتی ہے کہ اپ اپنے خاندان کے ساتھ اپنی خوشی منائیں ۔ جس سے آپس کے پیار و محبت میں اضافہ ہوتا ہے ـ خوشی اور غم میں اپنوں کی شرکت خوشی کو بڑھا اور غم کو گھٹا دیتی ہے ـ
بس اسی پختہ یقین کی ضرورت ہے کہ خاندان کے تمام لوگ دکھ اور سکھ میں ساتھ ہوں ـ اور یہ تب ہی ممکن ہے جب گھر کے تمام افراد کا رویہ مثبت اور سوچ اچھی ہو ـ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونے کا جذبہ ہو ـ پھر کوئی پریشانی ، پریشانی نہیں رہتی اور کوئی مشکل ، مشکل نہیں لگتی ـ
انشاُٗاللہ آئندہ تحریر میں مزید بات ہو گی ـ اللّہ اپ کا حامی و ناصر ہو اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا ہوں ـ امین ـ

Tuesday, 28 June 2016

قوتِ فیصلہ کی کمی

لسلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
خوش رہیں ، اللہ اپ سب کو اپنی حفظ و امان مین رکھے اور آسانیاں عطا فرمائے ـ امین ـ
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اپ نے کوئی کام کرنا ہے لیکن اپ محسوس کرتے ہیں کہ وہ اپ سے نہیں ہو سکے گا ـ اپ خود کو اس قابل نہیں پاتے کہ اس کام کو سرانجام دیں سکیں اور ایسا تبھی ہوتا ہے جب اپ میں فیصلہ کرنے کی طاقت نہین ہوتی اور نہ ہی یقین کہ میں کر سکتا ہوں ـ
پریشانی انسان کو یا تو
توڑ دیتی ہے
یا
مضبوط بنا دیتی ہے
اوریہی وہ لمحہ ہے جب اپ کی ساری زندگی کا فیصلہ ہو جاتا ہے کہ اپ پریشانی کا مقابلہ کریں گے یا پھر کبوتر کی طرح انکھیں بند کر کے بیٹھ جائیں گے ـ اور حالات کے بدلنے کا انتظار کرتے رہیں گے ـ یقین کریں حالات کو بدلنے کوئی نہیں آۓ گا یہ اپ کو خود اپنی محنت اور بروقت فیصلہ سے بدلنے ہیں ـ
جب ایسا ہو کہ اپ کسی کام کو کرنا چاہتے ہیں لیکن کر نہیں پا رہے تو سب سے پہلے اپ یہ فیصلہ کریں کہ مجھے یہ کام کرنا ہے یا نہیں ـ
اگر کام کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو پھر اپ وہ وجوہات تلاش کریں ، جن کی وجہ سے اپ کا کام نہیں ہو رہا ـ اب ان وجوہات میں سے کچھ ایسی ہوں گی ، جو اپ کو ناممکن لگ رہی ہوں گی اور کچھ ایسی ہوں گی جو قابلِ عمل ہوں گی تو سب سے پہلے ممکن صورتِ حال سے کوشش شروع کریں ـ اپ دیکھیں گے کہ آہستہ آہستہ اپ کی قوتِ ارادی بڑھنے لگے گی اور ایک نئی ہمت اور حوصلہ پیدا ہو گا ـ ہو سکتا ہے کہ کچھ ناکامی بھی راستے میں آئے، لیکن اپ نے اس کی پرواہ نہیں کرنی اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے کامیابی کی طرف چلنا ہے کیونکہ مضبوط قوتِ ارادی کے ساتھ ہی اپ کامیاب ہوں گے ـ
اب آتے ہیں کہ اگر اپ کام نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو کیا ہو گا ـ اگر اس وقت اپ یہ سوچیں کہ زیادہ سے زیادہ کیا ہو گا مجھے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا ـ کم از کم مجھے ایک بھرپور کوشش تو کرنی چاہیے ـ ہم ناکامی کے خوف کی وجہ سے کام نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں لیکن جب اپ ناکامی کا سامنا کرنے کے لئے پہلے ہی خود کو تیار کر لیں تو زیادہ اسانی ہو گی کیونکہ اگر اپ ناکام ہوں گے تو خود کو باور کرائیں گے کہ مجھے علم تھا ـ اور اگر کامیاب ہو گئے تو یقیناً اپ میں جس خود اعتمادی کا اضافہ ہو گا وہ اپ کی آئندہ زندگی کو بنا دے گی ـ ہم ناکام ہونے کے خوف سے کوشش نہیں کرتے ، پہلے ہی کامیابی کا فیصلہ کر لیتے ہیں ـ اور ناکام ہونے پر کوشش چھوڑ کر بیٹھ جاتے ہیں ـ
تیسری چیز جو ایسے وقت میں ہماری مدد کرتی ہے وہ ہمارے ساتھ اردگرد کے لوگ ہیں جو اپ کی ہمت افزائی کریں اور فیصلہ کرنے میں مدد کریں اس بے یقینی کی صورتِ حال سے نکلنے میں مدد کریں تو بھی اپ کامیاب ہونے میں زیادہ وقت نہیں لیں گے ـ کیونکہ ناکامی کے وقت وہ اپ کو حوصلہ دیں گے اور کامیابی میں ہمت افزائی کریں گے ـ
انشاُٗاللہ آئندہ تحریر میں مزید بات ہو گی ـ اللّہ اپ کا حامی و ناصر ہو اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا ہوں ـ امین ـ

Monday, 27 June 2016

وسائل کم اور مسائل زیادہ

السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
خوش رہیں ، اللہ اپ سب کو اپنی حفظ و امان مین رکھے اور آسانیاں عطا فرمائے ـ امین ـ
جب زندگی میں ایسا وقت آئے کہ اپ کے پاس وسائل کم ہوں اور مسائل زیادہ ، تو ایسے میں زندگی کی مشکلات میں اضافہ ہو جاتا ہے ـ کیونکہ ہمیں یہ علم ہی نہیں ہوتا کہ ان حالات میں کیا کریں ـ اور نہ ہی ہم نے سوچا ہوتا ہے کہ ایسے حالات میں کیا کرنا ہے اور کس طرح کرنا ہے ـ ہم اچھے خاصے سمجھ دار اور پڑھے لکھے ہونے کے باوجود ضروری اور غیر ضروری کے فرق کو نہیں سمجھ پاتے ـ
مثال کے طور پر
کھانا کھانا ایک ضروری عمل ہے جو کہ گھر میں کھایا جاۓ تو ضروری عمل ہے لیکن ہوٹل میں کھانا غیر ضروری عمل ہے جب وسائل کم ہوں ـ بس اسی فرق کو جب اپ سمجھ جائیں گے تو اسانی ہو سکتی ہے اور مزید مشکلات پیدا ہونے سے بچا سکتا ہے ـ
بزرگوں کا قول ہے :۔
چادر دیکھ کر پاؤں پھیلائیں
یقیناً یہ بھی کسی ایسی ہی صورتِ حال کے بارے میں کہا گیا ہو گا ـ ہمارے بزرگ بہت عقل مند لوگ تھے انھوں نے زندگی کی مشکلات سے کچھ سیکھنے کے بعد ہی یہ بات کی ہے ـ
لیکن آج ہمارا یہ حال ہوتا ہے کہ سر کو ڈھانپیں تو پاؤں ننگے اور پاؤں ڈھانپیں تو سر ننگا ـ
ایسی صورت میں انسان کے ذہن میں منفی خیالات جنم لیتے ہیں جو ہمیں غلط عمل کی طرف لے کر جاتے ہیں ـ ہماری سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے ـ غلط اور صحیح کا فرق ختم ہو جاتا ہے ـ
جب بھی ایسا وقت اۓ کہ وسائل کم ہوں تو سب سے پہلے ان چیزوں کو ختم کر دیا جاۓ جو غیر ضروری ہیں جن کے بغیر گذارا ہو سکتا ہے ـ اور وہ تمام ضروریات زندگی جو کہ ضروری ہیں انھیں پہلے سرانجام دیں ـ پھر اپنے وسائل کو بڑھانے کی کوشش بھی کرتے جائیں بےشک اس میں اپ کو کامیابی نہ ملے یا تھوڑی کامیابی ملے ـ ہمت اور حوصلے سے وقت گذاریں ـ اور ان لوگوں کی بھی ہمت میں اضافہ کریں جو اپ کی ذات سے وابستہ ہیں ـ یہ یقین رکھیں سدا وقت ایک سا نہیں رہتا اگر اچھا وقت نہیں رہا تو یہ مشکل وقت بھی گزر جاۓ گا ـ
ایک مشکل دن بھی چوبیس گھنٹے سے زیادہ نہیں ہوتا بس برداشت کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیے یہی چیز سیکھنے کے عمل کو بڑھاتی ہے اور اپ کامیابی کی منزل تک پہنچ پاتے ہیں ـ زندگی میں کبھی بھی سب دروازے بند نہیں ہوتے بس کون سا دروازہ ہمارا ہے یہ ڈھونڈنے کے لیۓ محنت کی ضرورت ہے ، صبر کی ضرورت ہے ـ جو اپ کے لئے ہے ، وہ اپ ہی کے لئے ہے ، اسے اپ کے سوا کوئی نہیں لے سکتا ـ اللّہ پر پختہ یقین رکھیں ـ اللّہ پر یقین ، مسلسل محنت ، مضبوط قوتِ ارادی کے ساتھ اپ کامیابی کی منزل سے زیادہ دور نہیں ـ
انشاُٗاللہ آئندہ تحریر میں مزید بات ہو گی ـ اللّہ اپ کا حامی و ناصر ہو اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا ہوں ـ امین ـ

Saturday, 11 June 2016

لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ

السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ

خوش رہیں ، اللہ اپ سب کو اپنی حفظ و امان مین رکھے اور آسانیاں عطا فرمائے ـ امین ـ


جہاں بھی ہو ، جس وقت بھی ہو جتنا ممکن ہو لآاِلٰہَ اِلاَّ اللّہُ کا ذکر کرےـ
حدیث شریف میں ایا ہے کہ :-
وہ ذکر جو کسی وقت ، جگہ اور سبب کے ساتھ مخصوص نہیں وہ لآاِلٰہَ اِلاَّ اللّہُ ہی ہے ـ
سب سے افضل ذکر ہے ـ
دوسری حدیث میں ہے :
یہی سب سے بڑھ کر نیکی ہےـ
ایک اور حدیث میں ایا ہے کہ :۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
قیامت کے دن میری شفاعت سے سب سے زیادہ بہرہ ور وہ شخص ہو گا جس شخص نے دل و جان سے (یعنی) خلوص قلب کے ساتھ لآاِلٰہَ اِلاَّ اللّہُ کہا ہو گا ـ
ایک اور حدیث میں ہے کہ :۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :۔
جاس شخص نے لآاِلٰہَ اِلاَّ اللّہُ کہا اور اس کے دل میں جَو برابر بھی خلوص یا ایمان ہو گا وہ دوزخ سے نکال لیا جائے گا ، اور جس شخص نے یہ کلمہ کہا اور اس کے دل میں گیہوں کے دانہ کے برابر بھی خلوص یا ایمان ہو گا وہ بھی دوزخ سے نکال لیا جائے گا ، اور جس نے یہ کلمہ کہا اور اس کے دل میں ذرہ برابر بھی بھلائی یا ایمان ہو گا وہ بھی دوزخ سے نکال لیا جائے گا ـ
ایک اور حدیث میں ایا ہے کہ :۔
جس شخص نے (دل سے) لآاِلٰہَ اِلاَّ اللّہُ کہا وہ جنت میں ضرور داخل ہو گا اگرچہ اس نے زنا اور چوری (جیسے گناہ) بھی کئے ہوں ، اگرچہ اس نے زنا اور چوری بھی کی ہو ، اگرچہ اس نے زنا اور چوری بھی کی ہو (تین مرتبہ فرمایا)
ایک اور حدیث میں ایا ہے کہ :۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :۔
تم اپنے ایمان کو تازہ کرتے رہا کرو ـ صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایمان کو کس طرح تازہ کریں ، اپ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
کثرت سے لآاِلٰہَ اِلاَّ اللّہُ کہتے رہا کرو ـ
ایک اور حدیث میں ایا ہے کہ :۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لآاِلٰہَ اِلاَّ اللّہُ کو اللّہ تک پہنچنے سے کوئی چیز نہیں روکتی ـ
ایک اور حدیث میں ہے :
لآاِلٰہَ اِلاَّ اللّہُ (کا ذکر) کوئی گناہ باقی نہیں رہنے دیتا ، اور کوئی بھی عمل اس کے برابر نہیں ہے ـ
ایک اور حدیث میں ہے کہ :۔
اگر ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں ترازو کے ایک پلڑے میں ہوں اور لآاِلٰہَ اِلاَّ اللّہُ دوسرے پلڑے میں ہو تو وہ ان سب سے بڑھ جائے گا ـ
اور ایک حدیث میں ایا ہے :۔
جب بھی کوئی بندہ دل سے لآاِلٰہَ اِلاَّ اللّہُ کہتا ہے اس کے لئے آسمانوں کے دروازے کھل جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ عرش تک پہنچ جاتا ہے ، جب تک کہ وہ بڑے بڑے گناہوں سے بچتا رہا ہو ـ
انشاُٗاللہ آئندہ تحریر میں مزید بات ہو گی ـ اللّہ اپ کا حامی و ناصر ہو اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا ہوں ـ امین ـ

Friday, 10 June 2016

یقینِ محکم

السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
خوش رہیں ، اللہ اپ سب کو اپنی حفظ و امان مین رکھے اور آسانیاں عطا فرمائے ـ امین ـ
جب اپ مشکل حالات کا مقابلہ اپنی پوری ہمت اور حوصلے سے کرتے ہیں تو خود اپنے اپ میں ایک یقین کا عنصر پیدا ہوتا ہے کچھ حاصل کر لینے کا، کچھ بننے کا عمل شروع ہوتا ہے ـ جو اپ کو کامیابی کی منزل کی طرف لے کر جاتا ہے ـ اگرچہ کامیابی کا تناسب کم ہی کیوں نہ ہو لیکن وہ جو ایک اپنی ذات میں پیدا ہونے والا یقینِ محکم ہے اس کو ختم نہ ہونے دیں ـ اگر دس میں سے ایک مشکل یا پریشانی میں ہی اپ کو کامیابی کیوں نہ ملی ہو اور کامیابی اور ناکامی کا تناسب ۱/۹ ہی کیوں نہ ہو اپ اس تناسب کو بڑھاتے ہوئے زندگی میں آگے بڑھتے جائیں اپ دیکھیں گے کہ ایک وقت آئے گا یہ تناسب ۹/۱ کا ہو گا ـ اندھیرے میں ایک چھوٹے سے دیے سے روشنی کا دھندلا سا عکس نظر آتا ہے پھر وہ عکس زیادہ واضح ہونا شروع ہوتا ہے اور پھر سب کچھ صاف نظر آنے لگتا ہے ـ کامیابی اور ناکامی میں بھی یہی فرق ہے پہلے کچھ دھندلا سا نظر آئے گا پھر اور واضح ہو گا اور پھر کامیابی سامنے نظر آنے لگے گی ـ
بس کچھ پا لینے کی جستجو ہی انسان کو آگے بڑھنے میں مدد دیتی ہے اس کو اپنی ذات سے ختم نہیں ہونے دینا ہے اور زندگی کے تمام حالات کا مقابلہ کرنا ہے کامیابی خود اپ کے قدم چومتے گی ـ
ابراہیم لنکن
جسے دنیا امریکہ جیسے ملک کے صدر کے طور پر جانتی ہے اس نے اپنی زندگی میں بہت جدوجہد کی ہے ـ جس کام کو شروع کیا ناکامی ہوئی کیا کاروبار، کیا منگنی، کیا سیاست، غرض جس کام کو شروع کیا ناکامی کا ہی منہ دیکھنا پڑا ـ لیکن اس نے ہمت ہیں ہاری ہر بار نئی ہمت اور حوصلے سے کام کیا پوری زندگی میں دو یا تین دفعہ کامیابی ہوئی باقی سب ناکامی ہی کی کہانیاں ہیں لیکن اس نے اپنے یقین کو ٹوٹنے نہیں دیا
کچھ پا لینے کا یقین
کچھ بننے کا یقین
کچھ کرنے کا یقین
اور پھر دنیا نے دیکھا کہ وہ امریکہ کا صدر بنا جو اس کی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی تھی ـ وہ ۱/۹ کی تناسب سے ملنے والی کامیابی ـ
زندگی میں جہد مسلسل سے ہی کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے ـ بس حوصلہ نہیں ہارنا اور ہمت کو ٹوٹنے نہیں دینا، تو پھر کچھ بن جانے کا یقین بڑھے گا اور اپ کامیاب ہوں گے ـ
انشاُٗاللہ آئندہ تحریر میں مزید بات ہو گی ـ اللّہ اپ کا حامی و ناصر ہو اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا ہوں ـ امین ـ