Showing posts with label Positive. Show all posts
Showing posts with label Positive. Show all posts

Thursday, 21 July 2016

ہمارا عمل


السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
خوش رہیں ، اللہ اپ سب کو اپنی حفظ و امان مین رکھے اور آسانیاں عطا فرمائے ـ امین ـ



آج کل ہر شخص اس بات کا گلہ کرتا ہے کہ سب لوگوں کے طور طریقے اچھے نہیں ہیں ـ سب لوگ کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں ـ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم آج کل سوشل میڈیا پر جو بھی اچھی بات پڑھتے ہیں اس کو دوسروں کو بھیج دیتے ہیں ، لیکن خود عمل کرنے میں صفر ہیں ـ جبکہ ہمیں پہلے خود عمل کرنا چاہیے اور پھر آگے اپنے دوستوں کو بھیجیں ـ جب ہم کسی بھی اچھی بات کو پڑھیں اور خود عمل کر کے دیکھائیں گے تو پھر ثواب کے لئے دوسرے کو کہنا نہیں پڑے گا اپ کا اچھا عمل دیکھ کر دوسرے خود عمل کریں گے ـ لیکن ہم دوسرے کے عمل کر کے ثواب لینا چاہتے ہیں ـ لیکن یہ سمجھ لیں کہ اپ کو بھی ثواب تبھی ملے گا جب اپ خود اس پر عمل کریں گے ، صرف دوسروں کو نصیحت کرنے سے اثر نہیں ہو گا ، نصیحت کا اثر بھی اس وقت ہوتا ہے جب اپ خود اس پر عمل کر رہے ہوں ـ کہنا آسان ہے اور عمل کرنا مشکل ہے لیکن پہلے اپ کو خود مثال بن کر دیکھانا ہے ـ اسی وقت تو معاشرے میں تبدیلی آئے گی صرف دوسروں کو کہنے سے تو کچھ بھی نہیں ہو گا ـ

ایک دفعہ ایک عورت اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اپنے بچے کے بارے میں عرض کی کہ اپ صلی ال
علیہ وسلم اسے شہد کی ایک قسم کھانے سے منع فرمائیں ، اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو دو دن بعد آنے کے لئے کہا ـ دو دن بعد جب وہ عورت آئی تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بچے کو شہد کھانے سے منع فرمایا ، اس عورت نے عرض کیا کہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دن بعد کیوں منع فرمایا ہے تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس دن تم نے اپنے بچے کو شہد کھانے سے منع کرنے کے لئے کہا تھا تو اس دن میں نے خود بھی وہ شہد کھایا تھا تو میں بچے کو کیسے منع کر سکتا تھا اب میں نے خود بھی وہ شہد کھانا چھوڑا ہے تو تمہارے بچے کو بھی کھانے سے منع کیا ہے ـ
یہ واقعہ سنانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ہمیں بھی پہلے خود اچھی باتوں پر عمل کرنا ہو گا پھر دوسرے لوگوں کو عمل کے لئے کہا جا سکتا ہے ـ اگر اللّہ کے نبی عمل کرنے کے بعد نصیحت کر رہے ہیں تو ہمیں بھی اسی پر عمل کرنا ہو گا صرف کہنا نہیں ہے ـ
اور ایک آخری بات۰۰۰۰
جب اپ کا دوست اسی طرح کی کوئی اچھی اور نیکی کی بات اپ کو بھیجے تو کیا اپ عمل کرتے ہیں جو اپ کے دوست کے لئے ثواب کا ذریعہ بنے؟؟؟؟
سوچئے گا ضرور۰۰۰
انشاُٗاللہ آئندہ تحریر میں مزید بات ہو گی ـ اللّہ اپ کا حامی و ناصر ہو اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا ہوں ـ امین ـ

Tuesday, 19 July 2016

خاندان


السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
خوش رہیں ، اللہ اپ سب کو اپنی حفظ و امان مین رکھے اور آسانیاں عطا فرمائے ـ امین ـ
ماں ، باپ اور بچوں سے مل کر ایک خاندان بنتا ہے اور ایک گھر کی بنیاد پیار ، محبت ، بھروسہ ، سچائی، اعتماد ، ایک دوسرے کا خیال ، دکھ سکھ میں ساتھ دینا ، مشکل حالات سے مل کر لڑنا ، کندھے سے کندھا ملا کر چلنا ، انھی باتوں پر رکھی جاتی ہے ـ اسی لئے ایک گھر کو اپ (گھر پیارا گھر ) کہتے ہیں
جب اپ کے خاندان پر کوئی مشکل وقت آتا ہے، تو گھر کے تمام افراد مل کر اس مشکل وقت سے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں ، ایک دوسرے کی مدد کے لئے موجود ہوتے ہیں ـ اب چاہے وہ پریشانی سارے خاندان کے لئے ہو یا ایک فرد کی ہو سب ساتھ کھڑے ہوتے ہیں ـ ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر اس مشکل وقت سے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں ـ ایک دوسرے کی ہمت بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں ـ مشکل وقت کا ساتھ اور مدد خاندان کے افراد کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا باعث بنتی ہے ـ اور اپ کا یہ یقین بڑھ جاتا ہے کہ میں مشکل میں اکیلا نہیں ، میرے خاندان کے افراد میرے ساتھ ہیں ـ
اسی طرح جب خاندان میں خوشی کا موقع ہو تو اس وقت بھی سب ساتھ ہوتے ہیں ـ جس سے خوشی دگنی ہو جاتی ہے ـ اس وقت اپ کی پہلی خواہش بھی یہی ہوتی ہے کہ اپ اپنے خاندان کے ساتھ اپنی خوشی منائیں ۔ جس سے آپس کے پیار و محبت میں اضافہ ہوتا ہے ـ خوشی اور غم میں اپنوں کی شرکت خوشی کو بڑھا اور غم کو گھٹا دیتی ہے ـ
بس اسی پختہ یقین کی ضرورت ہے کہ خاندان کے تمام لوگ دکھ اور سکھ میں ساتھ ہوں ـ اور یہ تب ہی ممکن ہے جب گھر کے تمام افراد کا رویہ مثبت اور سوچ اچھی ہو ـ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونے کا جذبہ ہو ـ پھر کوئی پریشانی ، پریشانی نہیں رہتی اور کوئی مشکل ، مشکل نہیں لگتی ـ
انشاُٗاللہ آئندہ تحریر میں مزید بات ہو گی ـ اللّہ اپ کا حامی و ناصر ہو اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا ہوں ـ امین ـ

Tuesday, 28 June 2016

قوتِ فیصلہ کی کمی

لسلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
خوش رہیں ، اللہ اپ سب کو اپنی حفظ و امان مین رکھے اور آسانیاں عطا فرمائے ـ امین ـ
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اپ نے کوئی کام کرنا ہے لیکن اپ محسوس کرتے ہیں کہ وہ اپ سے نہیں ہو سکے گا ـ اپ خود کو اس قابل نہیں پاتے کہ اس کام کو سرانجام دیں سکیں اور ایسا تبھی ہوتا ہے جب اپ میں فیصلہ کرنے کی طاقت نہین ہوتی اور نہ ہی یقین کہ میں کر سکتا ہوں ـ
پریشانی انسان کو یا تو
توڑ دیتی ہے
یا
مضبوط بنا دیتی ہے
اوریہی وہ لمحہ ہے جب اپ کی ساری زندگی کا فیصلہ ہو جاتا ہے کہ اپ پریشانی کا مقابلہ کریں گے یا پھر کبوتر کی طرح انکھیں بند کر کے بیٹھ جائیں گے ـ اور حالات کے بدلنے کا انتظار کرتے رہیں گے ـ یقین کریں حالات کو بدلنے کوئی نہیں آۓ گا یہ اپ کو خود اپنی محنت اور بروقت فیصلہ سے بدلنے ہیں ـ
جب ایسا ہو کہ اپ کسی کام کو کرنا چاہتے ہیں لیکن کر نہیں پا رہے تو سب سے پہلے اپ یہ فیصلہ کریں کہ مجھے یہ کام کرنا ہے یا نہیں ـ
اگر کام کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو پھر اپ وہ وجوہات تلاش کریں ، جن کی وجہ سے اپ کا کام نہیں ہو رہا ـ اب ان وجوہات میں سے کچھ ایسی ہوں گی ، جو اپ کو ناممکن لگ رہی ہوں گی اور کچھ ایسی ہوں گی جو قابلِ عمل ہوں گی تو سب سے پہلے ممکن صورتِ حال سے کوشش شروع کریں ـ اپ دیکھیں گے کہ آہستہ آہستہ اپ کی قوتِ ارادی بڑھنے لگے گی اور ایک نئی ہمت اور حوصلہ پیدا ہو گا ـ ہو سکتا ہے کہ کچھ ناکامی بھی راستے میں آئے، لیکن اپ نے اس کی پرواہ نہیں کرنی اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے کامیابی کی طرف چلنا ہے کیونکہ مضبوط قوتِ ارادی کے ساتھ ہی اپ کامیاب ہوں گے ـ
اب آتے ہیں کہ اگر اپ کام نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو کیا ہو گا ـ اگر اس وقت اپ یہ سوچیں کہ زیادہ سے زیادہ کیا ہو گا مجھے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا ـ کم از کم مجھے ایک بھرپور کوشش تو کرنی چاہیے ـ ہم ناکامی کے خوف کی وجہ سے کام نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں لیکن جب اپ ناکامی کا سامنا کرنے کے لئے پہلے ہی خود کو تیار کر لیں تو زیادہ اسانی ہو گی کیونکہ اگر اپ ناکام ہوں گے تو خود کو باور کرائیں گے کہ مجھے علم تھا ـ اور اگر کامیاب ہو گئے تو یقیناً اپ میں جس خود اعتمادی کا اضافہ ہو گا وہ اپ کی آئندہ زندگی کو بنا دے گی ـ ہم ناکام ہونے کے خوف سے کوشش نہیں کرتے ، پہلے ہی کامیابی کا فیصلہ کر لیتے ہیں ـ اور ناکام ہونے پر کوشش چھوڑ کر بیٹھ جاتے ہیں ـ
تیسری چیز جو ایسے وقت میں ہماری مدد کرتی ہے وہ ہمارے ساتھ اردگرد کے لوگ ہیں جو اپ کی ہمت افزائی کریں اور فیصلہ کرنے میں مدد کریں اس بے یقینی کی صورتِ حال سے نکلنے میں مدد کریں تو بھی اپ کامیاب ہونے میں زیادہ وقت نہیں لیں گے ـ کیونکہ ناکامی کے وقت وہ اپ کو حوصلہ دیں گے اور کامیابی میں ہمت افزائی کریں گے ـ
انشاُٗاللہ آئندہ تحریر میں مزید بات ہو گی ـ اللّہ اپ کا حامی و ناصر ہو اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا ہوں ـ امین ـ

Monday, 27 June 2016

وسائل کم اور مسائل زیادہ

السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
خوش رہیں ، اللہ اپ سب کو اپنی حفظ و امان مین رکھے اور آسانیاں عطا فرمائے ـ امین ـ
جب زندگی میں ایسا وقت آئے کہ اپ کے پاس وسائل کم ہوں اور مسائل زیادہ ، تو ایسے میں زندگی کی مشکلات میں اضافہ ہو جاتا ہے ـ کیونکہ ہمیں یہ علم ہی نہیں ہوتا کہ ان حالات میں کیا کریں ـ اور نہ ہی ہم نے سوچا ہوتا ہے کہ ایسے حالات میں کیا کرنا ہے اور کس طرح کرنا ہے ـ ہم اچھے خاصے سمجھ دار اور پڑھے لکھے ہونے کے باوجود ضروری اور غیر ضروری کے فرق کو نہیں سمجھ پاتے ـ
مثال کے طور پر
کھانا کھانا ایک ضروری عمل ہے جو کہ گھر میں کھایا جاۓ تو ضروری عمل ہے لیکن ہوٹل میں کھانا غیر ضروری عمل ہے جب وسائل کم ہوں ـ بس اسی فرق کو جب اپ سمجھ جائیں گے تو اسانی ہو سکتی ہے اور مزید مشکلات پیدا ہونے سے بچا سکتا ہے ـ
بزرگوں کا قول ہے :۔
چادر دیکھ کر پاؤں پھیلائیں
یقیناً یہ بھی کسی ایسی ہی صورتِ حال کے بارے میں کہا گیا ہو گا ـ ہمارے بزرگ بہت عقل مند لوگ تھے انھوں نے زندگی کی مشکلات سے کچھ سیکھنے کے بعد ہی یہ بات کی ہے ـ
لیکن آج ہمارا یہ حال ہوتا ہے کہ سر کو ڈھانپیں تو پاؤں ننگے اور پاؤں ڈھانپیں تو سر ننگا ـ
ایسی صورت میں انسان کے ذہن میں منفی خیالات جنم لیتے ہیں جو ہمیں غلط عمل کی طرف لے کر جاتے ہیں ـ ہماری سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے ـ غلط اور صحیح کا فرق ختم ہو جاتا ہے ـ
جب بھی ایسا وقت اۓ کہ وسائل کم ہوں تو سب سے پہلے ان چیزوں کو ختم کر دیا جاۓ جو غیر ضروری ہیں جن کے بغیر گذارا ہو سکتا ہے ـ اور وہ تمام ضروریات زندگی جو کہ ضروری ہیں انھیں پہلے سرانجام دیں ـ پھر اپنے وسائل کو بڑھانے کی کوشش بھی کرتے جائیں بےشک اس میں اپ کو کامیابی نہ ملے یا تھوڑی کامیابی ملے ـ ہمت اور حوصلے سے وقت گذاریں ـ اور ان لوگوں کی بھی ہمت میں اضافہ کریں جو اپ کی ذات سے وابستہ ہیں ـ یہ یقین رکھیں سدا وقت ایک سا نہیں رہتا اگر اچھا وقت نہیں رہا تو یہ مشکل وقت بھی گزر جاۓ گا ـ
ایک مشکل دن بھی چوبیس گھنٹے سے زیادہ نہیں ہوتا بس برداشت کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیے یہی چیز سیکھنے کے عمل کو بڑھاتی ہے اور اپ کامیابی کی منزل تک پہنچ پاتے ہیں ـ زندگی میں کبھی بھی سب دروازے بند نہیں ہوتے بس کون سا دروازہ ہمارا ہے یہ ڈھونڈنے کے لیۓ محنت کی ضرورت ہے ، صبر کی ضرورت ہے ـ جو اپ کے لئے ہے ، وہ اپ ہی کے لئے ہے ، اسے اپ کے سوا کوئی نہیں لے سکتا ـ اللّہ پر پختہ یقین رکھیں ـ اللّہ پر یقین ، مسلسل محنت ، مضبوط قوتِ ارادی کے ساتھ اپ کامیابی کی منزل سے زیادہ دور نہیں ـ
انشاُٗاللہ آئندہ تحریر میں مزید بات ہو گی ـ اللّہ اپ کا حامی و ناصر ہو اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا ہوں ـ امین ـ

Friday, 10 June 2016

یقینِ محکم

السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
خوش رہیں ، اللہ اپ سب کو اپنی حفظ و امان مین رکھے اور آسانیاں عطا فرمائے ـ امین ـ
جب اپ مشکل حالات کا مقابلہ اپنی پوری ہمت اور حوصلے سے کرتے ہیں تو خود اپنے اپ میں ایک یقین کا عنصر پیدا ہوتا ہے کچھ حاصل کر لینے کا، کچھ بننے کا عمل شروع ہوتا ہے ـ جو اپ کو کامیابی کی منزل کی طرف لے کر جاتا ہے ـ اگرچہ کامیابی کا تناسب کم ہی کیوں نہ ہو لیکن وہ جو ایک اپنی ذات میں پیدا ہونے والا یقینِ محکم ہے اس کو ختم نہ ہونے دیں ـ اگر دس میں سے ایک مشکل یا پریشانی میں ہی اپ کو کامیابی کیوں نہ ملی ہو اور کامیابی اور ناکامی کا تناسب ۱/۹ ہی کیوں نہ ہو اپ اس تناسب کو بڑھاتے ہوئے زندگی میں آگے بڑھتے جائیں اپ دیکھیں گے کہ ایک وقت آئے گا یہ تناسب ۹/۱ کا ہو گا ـ اندھیرے میں ایک چھوٹے سے دیے سے روشنی کا دھندلا سا عکس نظر آتا ہے پھر وہ عکس زیادہ واضح ہونا شروع ہوتا ہے اور پھر سب کچھ صاف نظر آنے لگتا ہے ـ کامیابی اور ناکامی میں بھی یہی فرق ہے پہلے کچھ دھندلا سا نظر آئے گا پھر اور واضح ہو گا اور پھر کامیابی سامنے نظر آنے لگے گی ـ
بس کچھ پا لینے کی جستجو ہی انسان کو آگے بڑھنے میں مدد دیتی ہے اس کو اپنی ذات سے ختم نہیں ہونے دینا ہے اور زندگی کے تمام حالات کا مقابلہ کرنا ہے کامیابی خود اپ کے قدم چومتے گی ـ
ابراہیم لنکن
جسے دنیا امریکہ جیسے ملک کے صدر کے طور پر جانتی ہے اس نے اپنی زندگی میں بہت جدوجہد کی ہے ـ جس کام کو شروع کیا ناکامی ہوئی کیا کاروبار، کیا منگنی، کیا سیاست، غرض جس کام کو شروع کیا ناکامی کا ہی منہ دیکھنا پڑا ـ لیکن اس نے ہمت ہیں ہاری ہر بار نئی ہمت اور حوصلے سے کام کیا پوری زندگی میں دو یا تین دفعہ کامیابی ہوئی باقی سب ناکامی ہی کی کہانیاں ہیں لیکن اس نے اپنے یقین کو ٹوٹنے نہیں دیا
کچھ پا لینے کا یقین
کچھ بننے کا یقین
کچھ کرنے کا یقین
اور پھر دنیا نے دیکھا کہ وہ امریکہ کا صدر بنا جو اس کی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی تھی ـ وہ ۱/۹ کی تناسب سے ملنے والی کامیابی ـ
زندگی میں جہد مسلسل سے ہی کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے ـ بس حوصلہ نہیں ہارنا اور ہمت کو ٹوٹنے نہیں دینا، تو پھر کچھ بن جانے کا یقین بڑھے گا اور اپ کامیاب ہوں گے ـ
انشاُٗاللہ آئندہ تحریر میں مزید بات ہو گی ـ اللّہ اپ کا حامی و ناصر ہو اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا ہوں ـ امین ـ

Thursday, 9 June 2016

خود اعتمادی




السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
خوش رہیں اللہ اپ سب کو اپنی حفظ و امان مین رکھے اور آسانیاں عطا فرمائے امین
جب اپ کسی مشکل میں ہوں تو اپ کے پاس دو راستے ہوتے ہیں ـ
ایک تو یہ کہ اپ کو کچھ سمجھ نہیں آتا کیا کریں ـ راستہ دیکھائی نہیں دیتا ـ کوئی ہمدرد نظر نہیں آتا جو اس مشکل سے نکلنے میں مدد کرے یا کوئی ایسا مشورہ دے کہ اپ اس پریشانی سے نکل سکیں ـ کوئی ایسا شخص مل جائے جو ایسا حل بتا سکے کہ ہم اس تکلیف دہ دور سے نکل جائیں ـ ایسے وقت میں ذہن میں منفی خیالات جنم لیتے ہیں اور اپ مزید غلط طرف چلے جاتے ہیں ـ یہ منفی سوچ منفی عمل کی طرف لے کر جاتی ہے اور شیطان کا کام آسان ہو جاتا ہے وہ ہمیں گناہوں کی طرف لے جاتا ہے ـ ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہم کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں ہیں ہماری ہمت جواب دے جاتی ہے ـ ہم جو بھی کام کرتے ہیں وہ غلط ہوجاتا ہے کیونکہ ہم غلط سوچ رہے ہوتے ہیں تو غلطی پہ غلطی ہی ہوتی جاتی ہے
لیکن
دوسری طرف اگر ہم پریشانی میں صرف پریشان ہونے کی بجائے اپنے اپ کو تھوڑا سا حوصلہ دیں کہ میں اس مشکل وقت سے نکل سسکتا ہوں اس پریشانی کا مقابلہ کر سکتا ہوں تو ہمیں کسی بھی شخص کی ضرورت نہیں ہو گی ـ مشکل وقت میں گبھرانے کی بجائے اس سے نکلنے کے بارے میں سوچیں ، مثبت انداز سے چیزوں کو دیکھیں ـ کوئی بھی مشکل ایسی نہیں ہوتی جس کا کوئی حل نہ ہو ـ یہ یقین کر لیں کہ اپ اس پریشانی سے لڑ سکتے ہیں اور پھر لڑنے کی تیاری کر لیں ـ جیسے ہی اپ نے یہ فیصلہ کیا کہ میں اس مشکل وقت سے لڑوں گا ایک خود اعتمادی کا احساس پیدا ہو گا جو اپ کو مثبت سوچ اور پھر مثبت عمل کی طرف لے کر جائے گا ـ سامنے کا راستہ نظر آنے لگے گا ـ اگر اپ پوری طرح کامیاب نہ بھی ہوں تو کسی نہ کسی حد تک کامیابی ضرور ملتی ہے جو ہماری خود اعتمادی میں اضافہ ہی کرتی ہے ـ یہ احساس پیدا کرتی ہے کہ اگر کچھ کرنے کا فیصلہ کر لیا جائے تو پھر کوئی بھی مشکل مشکل نہیں لگتی اور نہ ہی پریشانی کا خیال دل میں آتا ہے ـ نہ ہی اپ کسی دوسرے شخص کی مدد کی ضرورت محسوس کرتے ہیں جو آئے اور اپ کو اس مشکل سے نکالے ـ
اب یہ فیصلہ اپ کو کرنا ہے کہ مشکل میں کون سا راستہ اختیار کرنا ہے ـ
لڑنے اور کامیاب ہونے کا
یا
ہتھیار ڈال دینے کا
انشاُٗاللہ آئندہ تحریر میں مزید بات ہو گی اللّہ اپ کا حامی و ناصر ہو اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا ہوں امین

Wednesday, 1 June 2016

مثبت اندازِ زندگی


السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
خوش رہیں اللہ اپ سب کو اپنی حفظ و امان مین رکھے اور آسانیاں عطا فرمائے امین
ہمیں جب بھی کوئی پریشانی یا تکلیف ہو تو ہم شور کرنے لگتے ہیں -
ہائے پریشانی ہائے پریشانی
اور پھر یہ ہوتا ہے کہ ہماری سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے ـ ہمارا حوصلہ ٹوٹ جاتا ہے اور فیصلہ کرنے کی قوت نہیں رہتی ہے ـ پھر جب کچھ سمجھ نہیں آتا تو ہم منفی انداز سے سوچنے لگتے ہیں ـ منفی خیالات دماغ میں آنے لگتے ہیں ـ انسان کی ساری خرابی اور بربادی کا عمل یہیں سے شروع ہوتا ہے اور اپ سے ایک کے بعد دوسرا غلط عمل سرزد ہونا شروع ہو جاتا ہے
لیکن اگر
ایسے وقت میں اپنے اپ کو یہ بات سمجھائی جا سکے کہ کوئی بھی مشکل ناممکن نہیں اگر اس کے حل کی طرف جایا جائے
مثال کے طور پر اگر
اپ کو کوئی بھی مشکل یا پریشانی کا معاملہ پیش آئے تو سب سے پہلے اس کے ممکن حل کا سوچیں کہ اس کو کس طرح حل کیا جائے ـ ایک کے بعد دوسرے اور یہاں تک کہ تیسرے کے بارے میں سوچیں اور پھر اس پر عمل کرنا شروع کر دیں ـ اس کو کیسے حل کیا جائے ـ کون سے عوامل اختیار کیے جائیں کہ مشکل آسان ہو جائےـ پھر اپ دیکھیں گے کہ نہ صرف اپ کا حوصلہ بڑھے گا بلکہ زیادہ بہتر طریقے سے مشکل حالات سے نبٹا جائے گاـ مثبت سوچ اور عمل کے ساتھ آگے بڑھ سکیں گے چیزیں آسان ہونا شروع ہو جائیں گی ـ کوئی بھی تکلیف دہ عمل اپ کو ٹوٹنے نہیں دے گا ـ اپ میں قوتِ ارادی بڑھ جائے گی ـ اس طرح صحیح فیصلہ کر کے اپ خود اعتمادی کی دولت سے ہمکنار ہوں گے جو آئندہ زندگی میں بھی اپ کے کام آئے گی ـ
انشاُٗاللہ آئندہ تحریر میں مزید بات ہو گی اللّہ اپ کا حامی و ناصر ہو اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا ہوں امین

Sunday, 22 May 2016

Blessed & Positive

السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
خوش رہیں اللہ اپ سب کو اپنی حفظ و امان مین رکھے اور آسانیاں عطا فرمائے امین
آج ہم اس صفحے کے بارے میں بات کریں گے کہ اس کا یہ نام کیوں رکھا گیا اس کے نام کو دیکھا جائے تو یہ سمجھنا آسان ہو گااس صفحے کے نام کا پہلا حصہ
Blessed 
مطلب رحمت یعنی اللہ کی رحمت کے بغیر ہم دنیا میں کچھ بھی نہیں کر سکتے اور اس کا دوسرا حصہ
Positive
مثبت یعنی جب تک ہم اپنی سوچ اور عمل کو مثبت نہیں رکھیں گے اس وقت تک ہم کامیاب نہیں ہو سکتےمحنت اور کوشش کرنا ہمارا فرض ہے پھر نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیں وہ اپنے بندے کے لئے بہتر ہی کرتا ہے
ہم مذہب کو معاشرے سے اور معاشرے کو مذہب سے الگ نہیں کر سکتے اسلام دین اور دنیا دونوں کا نام ہے اور یہاں ہم ان دونوں پر بات کریں گے
انشاُٗاللہ آئندہ تحریر میں مزید بات ہو گی اللّہ اپ کا حامی و ناصر ہو اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا ہوں امین