Sunday, 17 July 2016

درود شریف کی فضیلت

لسلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
خوش رہیں ، اللہ اپ سب کو اپنی حفظ و امان مین رکھے اور آسانیاں عطا فرمائے ـ امین ـ
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ
كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ
.إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ
كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ
.إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ

ایک اور حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپ تک درود پہونچنے کا ذریعہ بیان فرماتے ہیں : بے شک الل کے کچھ فرشتے (مامور) ہیں جو ( دنیا کی محفلوں ، مجلسوں، اور مسلمانوں کے اس پاس) گھومتے رہتے ہیں ، میری امت کے (درود) سلام میرے پاس پہنچاتے ہیں ـ
ایک اور حدیث میں ایا ہے کہ :
اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( ایک مرتبہ) جبریل علیہ السلام سے میرے ملاقات ہوئ اور انھوں نے مجھے خوشخبری سنائی اور کہا کہ : اپ کا پروردگار فرماتا ہے کہ : جو شخص اپ پر درود بھیجے گا میں ( اس پر اپنی ) رحمت (خاص) نازل کروں گا اور جو اپ پر سلام بھیجے گا اس پر خاص) سلامتی نازل کروں گا ـ تو اس پر میں نے اللہ کی بارگاہ میں سجدۂ شکر ادا کیا ـ
ایک اور حدیث میں ہے کہ حضرت ابی بن کعب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے اذکارو دعا کا ( اپنا تمام وقت) اپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنے کے لئے ہی وقف کر دیا ہے ـ اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تب تو تمہاری تمام مشکلیں حل ( اور ضرورتیں پوری) ہو جائیں گی اور تمہارے گناہ بھی معاف ہو جائیں گے ـ
ایک اور حدیث میں ایا ہے کہ :
جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا اللّٰہ تعالٰی اس پر دس رحمتیں نازل فرمائیں گےـ
ایک اور حدیث میں ایا ہے کہ :
ایک دن اپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرۂ مبارک سے خوشی اور مسرت کے آثار ظاہر ہو رہے تھے تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس ( ابھی ابھی ) جبریل آئے اور کہا : اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پروردگار نے فرمایا ہے کہ : اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا تم اس بشارت سے خوش نہ ہو گے کہ تمہاری امت میں سے جو شخص بھی تم پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا میں اس پر دس بار رحمتیں نازل کروں گا اور تمہاری امت میں سے جو شخص بھی تم پر ایک رتبہ سلام بھیجے گا تو میں دس مرتبہ سلامتی نازل کروں گا ـ
ایک اور حدیث میں ایا ہے کہ :
اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللّٰہ تعالٰی اس پر دس رحمتیں نازل فرماتے ہیں اور اس کی دس خطائیں معاف کر دی جاتی ہیں اور ( جنت میں) اس کے دس درجے بلند کر دئیے جاتے ہیں اور دس نیکیاں بھی اس کے لئے لکھ دی جاتی ہیں ـ
ایک اور حدیث میں ایا ہے کہ :
جو شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللّٰہ تعالٰی اور اس کے فرشتے اس پر ستر رحمتیں (اور رحمت کی دعائیں) بھیجتے ہیں ـ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : ہر دعا ( بارگاہ الہی تک پہونچنے سے ) رکی رہتی ہے یہاں تک کہ ( دعا کرنے والا ) اپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آل ( اہل و عیال) پر درود بھیجتا ہے ( تب بارگاہِ الہی تک پہونچتی اور قبول ہوتی ہے )
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ :
(ہر) دعا آسمان و زمین کے درمیان رکی رہتی ہے ( اللّٰہ تعالٰی کی بارگاہ تک) اس کا کوئی حصہ بھی نہیں پہونچتا، یہاں تک کہ تم اپنے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم) پر درود بھیجو ( تب وہ دعا بارگاہ الہی میں پیش اور قبول ہوتی ہے )
شیخ ابو سلیمان دارانی ( عبدالرحمٰن شامی متوفی ۲۱۵ھ ) رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا :
جب تم اللّہ تعالٰی اے (اپنی) کسی حاجت کی دعا مانگو تو اس سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجو پھر جو چاہتے ہو دعا مانگو اور آخر میں پھر درود و سلام بھیجو ـ ( یعنی ہر دوا کے اوّل و آخر درود شریف ضرور پڑھو) اس لئے کہ اللّہ سبحانہ تعالٰی ( حسب وعدہ ) اپنے کرم سے ان دونوں سروسوں کو تو قبول فرمائیں گے ہی اور ان کے کرم سے یہ بعید ہے کہ وہ انکے درمیان کی دعا کو چھوڑ دیں ( اور نہ قبول کریں )
انشاُٗاللہ آئندہ تحریر میں مزید بات ہو گی ـ اللّہ اپ کا حامی و ناصر ہو اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا ہوں ـ امین ـ

Thursday, 14 July 2016

درود شریف

السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
خوش رہیں ، اللہ اپ سب کو اپنی حفظ و امان مین رکھے اور آسانیاں عطا فرمائے ـ امین ـ
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ
كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ
.إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ
كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ
.إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
حدیث شریف میں ایا ہے کہ :
جس مجلس میں بھی لوگ جمع ہوں گے اور وہ اس میں نہ اللہ تعالٰی کا ذکر کریں گے اور نہ اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) ( علیہ افضل ا لصلوات و التسلیمات) پر درود و سلام بھیجیں گے قیامت کے دن ان کی وہ مجلس ان کے لئے ( ذکر اللہ اور درود و سلام کے ) ثواب ( سے محرومی کی وجہ سے) حسرت و افسوس کا باعث ہو گی اگرچہ وہ جنت میں بھی داخل ہو جائیں ـ
حدیث شریف میں ایا ہے کہ :
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جمعہ کے دن کثرت سے مجھ پر درود (و سلام) بھیجا کرو کیونکہ تمھارا درود (و سلام) ( جمعہ کے دن خاص طور پر) میرے سامنے پیش کیا جاتا ہے ـ
ایک اور حدیث میں ایا ہے کہ :
جو کوئی بھی شخص جمعہ کے دن مجھ پر درود بھیجتا ہے اس کا درود ( خاص طور پر ) میرے سامنے ضرور پیش کیا جاتا ہے ـ
ایک اور حدیث میں ایا ہے کہ :
جو شخص بھی مجھ پر سلام بھیجتا ہے ( خاص کر میرے روضہ پر کھڑے ہو کر) میری روح مجھ پر لوٹا دی جاتی ہے ( یعنی اس کی طرف متوجہ کر دی جاتی ہے ) یہاں تک کہ میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں ـ
ایک اور حدیث میں ایا ہے کہ
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قیامت کے دن میرے سب سے قریب وہ شخص ہو گا جس نے سب سے زیادہ مجھ پر درود بھیجا ہو گا ـ
ایک اور حدیث میں ایا ہے کہ :
اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (اصلی) بخیل وہ شخص ہے جس کے سامنے میرا ذکر ہوا اور اس نے مجھ پر درود نہ بھیجا ـ
ایک اور حدیث میں ایا ہے کہ :
کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم کثرت سے میرے اوپر درود بھیجا کرو اس لئے کہ یہ درود تمہارے ( باطن کی تطہیر کے) لیے زکوٰتہ ( پاک کرنے کا ذریعہ) ہےـ
ایک اور حدیث میں ایا ہے کہ :
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ شخص ذلیل و خوار ہو جس کے سامنے میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے ـ
ایک اور حدیث میں ایا ہے کہ :
اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص کے سامنے میرا ذکر آۓ اس کو چاہیے کہ مجھ پر درود بھیجے، اس لئے کہ جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا اللّٰہ تعالٰی اس پر دس رحمتیں نازل فرمائیں گے ـ
ایک اور حدیث میں ایا ہے کہ :
اپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : جو کوئی میرا ذکر کرے اس کو مجھ پر درود بھیجنا چاہیے ـ

نشاُٗاللہ آئندہ تحریر میں مزید بات ہو گی ـ اللّہ اپ کا حامی و ناصر ہو اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا ہوں ـ امین ـ

Friday, 1 July 2016

ذکر کی فضیلت

السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
خوش رہیں ، اللہ اپ سب کو اپنی حفظ و امان مین رکھے اور آسانیاں عطا فرمائے ـ امین ـ
حدیث شریف میں ایا ہے کہ :۔
سرور کائنات صلی اللّہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
کیا تم میں سے کوئ شخص ہر روز ہزار نیکیاں کمانے سے عاجز ہے؟
جو شخص سو مرتبہ سبحان اللّہ پڑھ لیتا ہے اس کے لئے ہزار نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں اور ہزار برائیاں مٹا دی جاتی ہیں
اگر صرف دو کلمات پڑھنے سے اتنا اجر مل سکتا ہے تو زیادہ کلمات پڑھنے کا کتنا ثواب ہو گا یہ تو اللّہ کی امت محمدی پر خاص عنائت ہے کہ تھوڑی سی عبادت کا اتنا زیادہ اجر رکھا ہے جس میں بہت زیادہ محنت بھی نہیں کرنی اور روز قیامت میزان پر بھاری کلمات ہوں گے اور ہماری بخشش کا ذریعہ بھی ـ
جہاں بھی ہوں اور جس وقت بھی ہو سکے ان کلمات کا زیادہ سے زیادہ ذکر کریں ورنہ کم از کم دن میں ایک دفعہ
تو ضرور پڑھیں ـ
 سبحان اللّہ
 الحمداللّہ
 اللّہ اکبر
 سبحان اللّہ وبحمد
 سبحان اللّہ العظیم
 سبحان اللہ وبحمد سبحان اللہ العظیم
 رب زدنی علما
 اللھمہ اجرنی من النار
 رب اغفر وارحم انت خیر الراحمین
 اللھمہ انا نجعلک فی نحو رحم و نعوذبک من شرورھم
 لا الہ الا انت سبحٰنک انی کنت من الظلمین
 استغفراللّٰہ الذی لا الہ الا ھو الحی القیوم واتوب الیہ
 حسبنا اللّہ و نعم الوکیل علی اللّہ توکلنا
 لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
 اشھدان لا الہ الا اللّہ وحدہ لا شریک لہ واشھدان محمدًا عبدہ ورسولہ
 سبحن اللّہ والحمد للّٰہ ولا الہ الا اللّہ واللّہ اکبر ولا حول ولا قوتہ الا باللّہ العلی العظیم
 لا الہ الا اللّہ وحدہ لا شریک لہ لہٗ الملک ولہ الحمد یحی ویمیت وھو علی کل شیٍ قدیر

ان میں سے کچھ کلمات کے پڑھنے کی فضیلت بتائی گئی ہے انشاءاللّہ باقی کلمات کی فضیلت آیندہ کی تحریر میں بتائی جائے گی ـ
انشاُٗاللہ آئندہ تحریر میں مزید بات ہو گی ـ اللّہ اپ کا حامی و ناصر ہو اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا ہوں ـ امین ـ

Wednesday, 29 June 2016

کلمہ توحید کی فضیلت

السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
خوش رہیں ، اللہ اپ سب کو اپنی حفظ و امان مین رکھے اور آسانیاں عطا فرمائے ـ امین ـ
لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ ، لہٌ الملک ولہ الحمد یحیی ویمیت وھو علی کل شئٍ قدیر
کم از کم ایک مرتبہ اور زیادہ سے زیادہ جتنا بھی ہو سکے یہ کلمہ توحید پڑھا کرے :۔
حدیث شریف میں ایا ہے کہ :۔
جو شخص اس کلمہ توحید کو دس مرتبہ پڑھے گا تو وہ اس شخص کے مانند ہو گا جس نے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی اولاد (عرب قوم) میں سے چار نفر آزاد کئے ہوں :۔
ایک اور حدیث میں ہے کہ :۔
اور جو سو مرتبہ یہ کلمہ پڑھے گا اس کو دس غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا اور اس کے لئے سو نیکیاں لکھ دی جائیں گی اور اس کی سو بدیاں مٹا دی جائیں گی اور یہ کلمہ اس کے لئے شیطان سے بچاو کا سامان (محافظ) ہو گا اور قیامت کے دن کوئی بھی اس سے افضل عمل پیش کرنے والا نہ ہو گا بجز اس شخص کے جس نے اس سے بھی زیادہ یہ کلمہ پڑھا ہو گا ـ
یہی وہ کلمہ ہے جو حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو سکھلایا تھا (مگر اس نے اس سے کام نہ لیا اور طوفان میں ہلاک ہو گیا) اس لئے کہ اگر تمام آسمان ایک پلڑے میں (رکھے) ہوں (اور یہ کلمہ دوسرے پلڑے میں) تو یہ کلمہ ان سے بڑھ جائے گا اور اگر (سب) آسمان حلقہ کے مانند ہوں تو یہ کلمہ (اپنے بوجھ سے) ان کو ملا دے گا
کثرت سے یہ کلمہ پڑھا کرے:۔
لا الہ الا اللہ واللہ اکبر ولا حول ولا قوتہ الا باللہ العلی العظیم
لا الہ الا اللہ اور واللہ اکبر دو کلمے ہیں ، ان میں سے ایک ( لا الہ الا اللہ ) تو عرش سے کہیں رکتا ہی نہیں اور دوسرا (اللہ اکبر) آسمان اور زمین کے درمیان (فضا) کو بھر دیتا ہے
یہ دونوں کلمے ولا حول ولا قوتہ الا باللہ العلی العظیم کے ساتھ (مل کر) تو روئے زمین پر جو شخص بھی ان (تینوں کلمات) کو پڑھے گا اس کی خطاؤں ( اور گناہوں) کا ضرور کفارہ کر دیا جائے گا اگرچہ وہ سمندر کے جھاگوں کے برابر ہوں ـ
انشاُٗاللہ آئندہ تحریر میں مزید بات ہو گی ـ اللّہ اپ کا حامی و ناصر ہو اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا ہوں ـ امین ـ

Tuesday, 28 June 2016

قوتِ فیصلہ کی کمی

لسلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
خوش رہیں ، اللہ اپ سب کو اپنی حفظ و امان مین رکھے اور آسانیاں عطا فرمائے ـ امین ـ
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اپ نے کوئی کام کرنا ہے لیکن اپ محسوس کرتے ہیں کہ وہ اپ سے نہیں ہو سکے گا ـ اپ خود کو اس قابل نہیں پاتے کہ اس کام کو سرانجام دیں سکیں اور ایسا تبھی ہوتا ہے جب اپ میں فیصلہ کرنے کی طاقت نہین ہوتی اور نہ ہی یقین کہ میں کر سکتا ہوں ـ
پریشانی انسان کو یا تو
توڑ دیتی ہے
یا
مضبوط بنا دیتی ہے
اوریہی وہ لمحہ ہے جب اپ کی ساری زندگی کا فیصلہ ہو جاتا ہے کہ اپ پریشانی کا مقابلہ کریں گے یا پھر کبوتر کی طرح انکھیں بند کر کے بیٹھ جائیں گے ـ اور حالات کے بدلنے کا انتظار کرتے رہیں گے ـ یقین کریں حالات کو بدلنے کوئی نہیں آۓ گا یہ اپ کو خود اپنی محنت اور بروقت فیصلہ سے بدلنے ہیں ـ
جب ایسا ہو کہ اپ کسی کام کو کرنا چاہتے ہیں لیکن کر نہیں پا رہے تو سب سے پہلے اپ یہ فیصلہ کریں کہ مجھے یہ کام کرنا ہے یا نہیں ـ
اگر کام کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو پھر اپ وہ وجوہات تلاش کریں ، جن کی وجہ سے اپ کا کام نہیں ہو رہا ـ اب ان وجوہات میں سے کچھ ایسی ہوں گی ، جو اپ کو ناممکن لگ رہی ہوں گی اور کچھ ایسی ہوں گی جو قابلِ عمل ہوں گی تو سب سے پہلے ممکن صورتِ حال سے کوشش شروع کریں ـ اپ دیکھیں گے کہ آہستہ آہستہ اپ کی قوتِ ارادی بڑھنے لگے گی اور ایک نئی ہمت اور حوصلہ پیدا ہو گا ـ ہو سکتا ہے کہ کچھ ناکامی بھی راستے میں آئے، لیکن اپ نے اس کی پرواہ نہیں کرنی اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے کامیابی کی طرف چلنا ہے کیونکہ مضبوط قوتِ ارادی کے ساتھ ہی اپ کامیاب ہوں گے ـ
اب آتے ہیں کہ اگر اپ کام نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو کیا ہو گا ـ اگر اس وقت اپ یہ سوچیں کہ زیادہ سے زیادہ کیا ہو گا مجھے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا ـ کم از کم مجھے ایک بھرپور کوشش تو کرنی چاہیے ـ ہم ناکامی کے خوف کی وجہ سے کام نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں لیکن جب اپ ناکامی کا سامنا کرنے کے لئے پہلے ہی خود کو تیار کر لیں تو زیادہ اسانی ہو گی کیونکہ اگر اپ ناکام ہوں گے تو خود کو باور کرائیں گے کہ مجھے علم تھا ـ اور اگر کامیاب ہو گئے تو یقیناً اپ میں جس خود اعتمادی کا اضافہ ہو گا وہ اپ کی آئندہ زندگی کو بنا دے گی ـ ہم ناکام ہونے کے خوف سے کوشش نہیں کرتے ، پہلے ہی کامیابی کا فیصلہ کر لیتے ہیں ـ اور ناکام ہونے پر کوشش چھوڑ کر بیٹھ جاتے ہیں ـ
تیسری چیز جو ایسے وقت میں ہماری مدد کرتی ہے وہ ہمارے ساتھ اردگرد کے لوگ ہیں جو اپ کی ہمت افزائی کریں اور فیصلہ کرنے میں مدد کریں اس بے یقینی کی صورتِ حال سے نکلنے میں مدد کریں تو بھی اپ کامیاب ہونے میں زیادہ وقت نہیں لیں گے ـ کیونکہ ناکامی کے وقت وہ اپ کو حوصلہ دیں گے اور کامیابی میں ہمت افزائی کریں گے ـ
انشاُٗاللہ آئندہ تحریر میں مزید بات ہو گی ـ اللّہ اپ کا حامی و ناصر ہو اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا ہوں ـ امین ـ

Monday, 27 June 2016

وسائل کم اور مسائل زیادہ

السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
خوش رہیں ، اللہ اپ سب کو اپنی حفظ و امان مین رکھے اور آسانیاں عطا فرمائے ـ امین ـ
جب زندگی میں ایسا وقت آئے کہ اپ کے پاس وسائل کم ہوں اور مسائل زیادہ ، تو ایسے میں زندگی کی مشکلات میں اضافہ ہو جاتا ہے ـ کیونکہ ہمیں یہ علم ہی نہیں ہوتا کہ ان حالات میں کیا کریں ـ اور نہ ہی ہم نے سوچا ہوتا ہے کہ ایسے حالات میں کیا کرنا ہے اور کس طرح کرنا ہے ـ ہم اچھے خاصے سمجھ دار اور پڑھے لکھے ہونے کے باوجود ضروری اور غیر ضروری کے فرق کو نہیں سمجھ پاتے ـ
مثال کے طور پر
کھانا کھانا ایک ضروری عمل ہے جو کہ گھر میں کھایا جاۓ تو ضروری عمل ہے لیکن ہوٹل میں کھانا غیر ضروری عمل ہے جب وسائل کم ہوں ـ بس اسی فرق کو جب اپ سمجھ جائیں گے تو اسانی ہو سکتی ہے اور مزید مشکلات پیدا ہونے سے بچا سکتا ہے ـ
بزرگوں کا قول ہے :۔
چادر دیکھ کر پاؤں پھیلائیں
یقیناً یہ بھی کسی ایسی ہی صورتِ حال کے بارے میں کہا گیا ہو گا ـ ہمارے بزرگ بہت عقل مند لوگ تھے انھوں نے زندگی کی مشکلات سے کچھ سیکھنے کے بعد ہی یہ بات کی ہے ـ
لیکن آج ہمارا یہ حال ہوتا ہے کہ سر کو ڈھانپیں تو پاؤں ننگے اور پاؤں ڈھانپیں تو سر ننگا ـ
ایسی صورت میں انسان کے ذہن میں منفی خیالات جنم لیتے ہیں جو ہمیں غلط عمل کی طرف لے کر جاتے ہیں ـ ہماری سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے ـ غلط اور صحیح کا فرق ختم ہو جاتا ہے ـ
جب بھی ایسا وقت اۓ کہ وسائل کم ہوں تو سب سے پہلے ان چیزوں کو ختم کر دیا جاۓ جو غیر ضروری ہیں جن کے بغیر گذارا ہو سکتا ہے ـ اور وہ تمام ضروریات زندگی جو کہ ضروری ہیں انھیں پہلے سرانجام دیں ـ پھر اپنے وسائل کو بڑھانے کی کوشش بھی کرتے جائیں بےشک اس میں اپ کو کامیابی نہ ملے یا تھوڑی کامیابی ملے ـ ہمت اور حوصلے سے وقت گذاریں ـ اور ان لوگوں کی بھی ہمت میں اضافہ کریں جو اپ کی ذات سے وابستہ ہیں ـ یہ یقین رکھیں سدا وقت ایک سا نہیں رہتا اگر اچھا وقت نہیں رہا تو یہ مشکل وقت بھی گزر جاۓ گا ـ
ایک مشکل دن بھی چوبیس گھنٹے سے زیادہ نہیں ہوتا بس برداشت کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیے یہی چیز سیکھنے کے عمل کو بڑھاتی ہے اور اپ کامیابی کی منزل تک پہنچ پاتے ہیں ـ زندگی میں کبھی بھی سب دروازے بند نہیں ہوتے بس کون سا دروازہ ہمارا ہے یہ ڈھونڈنے کے لیۓ محنت کی ضرورت ہے ، صبر کی ضرورت ہے ـ جو اپ کے لئے ہے ، وہ اپ ہی کے لئے ہے ، اسے اپ کے سوا کوئی نہیں لے سکتا ـ اللّہ پر پختہ یقین رکھیں ـ اللّہ پر یقین ، مسلسل محنت ، مضبوط قوتِ ارادی کے ساتھ اپ کامیابی کی منزل سے زیادہ دور نہیں ـ
انشاُٗاللہ آئندہ تحریر میں مزید بات ہو گی ـ اللّہ اپ کا حامی و ناصر ہو اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا ہوں ـ امین ـ

Saturday, 11 June 2016

لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ

السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ

خوش رہیں ، اللہ اپ سب کو اپنی حفظ و امان مین رکھے اور آسانیاں عطا فرمائے ـ امین ـ


جہاں بھی ہو ، جس وقت بھی ہو جتنا ممکن ہو لآاِلٰہَ اِلاَّ اللّہُ کا ذکر کرےـ
حدیث شریف میں ایا ہے کہ :-
وہ ذکر جو کسی وقت ، جگہ اور سبب کے ساتھ مخصوص نہیں وہ لآاِلٰہَ اِلاَّ اللّہُ ہی ہے ـ
سب سے افضل ذکر ہے ـ
دوسری حدیث میں ہے :
یہی سب سے بڑھ کر نیکی ہےـ
ایک اور حدیث میں ایا ہے کہ :۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
قیامت کے دن میری شفاعت سے سب سے زیادہ بہرہ ور وہ شخص ہو گا جس شخص نے دل و جان سے (یعنی) خلوص قلب کے ساتھ لآاِلٰہَ اِلاَّ اللّہُ کہا ہو گا ـ
ایک اور حدیث میں ہے کہ :۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :۔
جاس شخص نے لآاِلٰہَ اِلاَّ اللّہُ کہا اور اس کے دل میں جَو برابر بھی خلوص یا ایمان ہو گا وہ دوزخ سے نکال لیا جائے گا ، اور جس شخص نے یہ کلمہ کہا اور اس کے دل میں گیہوں کے دانہ کے برابر بھی خلوص یا ایمان ہو گا وہ بھی دوزخ سے نکال لیا جائے گا ، اور جس نے یہ کلمہ کہا اور اس کے دل میں ذرہ برابر بھی بھلائی یا ایمان ہو گا وہ بھی دوزخ سے نکال لیا جائے گا ـ
ایک اور حدیث میں ایا ہے کہ :۔
جس شخص نے (دل سے) لآاِلٰہَ اِلاَّ اللّہُ کہا وہ جنت میں ضرور داخل ہو گا اگرچہ اس نے زنا اور چوری (جیسے گناہ) بھی کئے ہوں ، اگرچہ اس نے زنا اور چوری بھی کی ہو ، اگرچہ اس نے زنا اور چوری بھی کی ہو (تین مرتبہ فرمایا)
ایک اور حدیث میں ایا ہے کہ :۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :۔
تم اپنے ایمان کو تازہ کرتے رہا کرو ـ صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایمان کو کس طرح تازہ کریں ، اپ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
کثرت سے لآاِلٰہَ اِلاَّ اللّہُ کہتے رہا کرو ـ
ایک اور حدیث میں ایا ہے کہ :۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لآاِلٰہَ اِلاَّ اللّہُ کو اللّہ تک پہنچنے سے کوئی چیز نہیں روکتی ـ
ایک اور حدیث میں ہے :
لآاِلٰہَ اِلاَّ اللّہُ (کا ذکر) کوئی گناہ باقی نہیں رہنے دیتا ، اور کوئی بھی عمل اس کے برابر نہیں ہے ـ
ایک اور حدیث میں ہے کہ :۔
اگر ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں ترازو کے ایک پلڑے میں ہوں اور لآاِلٰہَ اِلاَّ اللّہُ دوسرے پلڑے میں ہو تو وہ ان سب سے بڑھ جائے گا ـ
اور ایک حدیث میں ایا ہے :۔
جب بھی کوئی بندہ دل سے لآاِلٰہَ اِلاَّ اللّہُ کہتا ہے اس کے لئے آسمانوں کے دروازے کھل جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ عرش تک پہنچ جاتا ہے ، جب تک کہ وہ بڑے بڑے گناہوں سے بچتا رہا ہو ـ
انشاُٗاللہ آئندہ تحریر میں مزید بات ہو گی ـ اللّہ اپ کا حامی و ناصر ہو اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا ہوں ـ امین ـ