Saturday, 11 June 2016

لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ

السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ

خوش رہیں ، اللہ اپ سب کو اپنی حفظ و امان مین رکھے اور آسانیاں عطا فرمائے ـ امین ـ


جہاں بھی ہو ، جس وقت بھی ہو جتنا ممکن ہو لآاِلٰہَ اِلاَّ اللّہُ کا ذکر کرےـ
حدیث شریف میں ایا ہے کہ :-
وہ ذکر جو کسی وقت ، جگہ اور سبب کے ساتھ مخصوص نہیں وہ لآاِلٰہَ اِلاَّ اللّہُ ہی ہے ـ
سب سے افضل ذکر ہے ـ
دوسری حدیث میں ہے :
یہی سب سے بڑھ کر نیکی ہےـ
ایک اور حدیث میں ایا ہے کہ :۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
قیامت کے دن میری شفاعت سے سب سے زیادہ بہرہ ور وہ شخص ہو گا جس شخص نے دل و جان سے (یعنی) خلوص قلب کے ساتھ لآاِلٰہَ اِلاَّ اللّہُ کہا ہو گا ـ
ایک اور حدیث میں ہے کہ :۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :۔
جاس شخص نے لآاِلٰہَ اِلاَّ اللّہُ کہا اور اس کے دل میں جَو برابر بھی خلوص یا ایمان ہو گا وہ دوزخ سے نکال لیا جائے گا ، اور جس شخص نے یہ کلمہ کہا اور اس کے دل میں گیہوں کے دانہ کے برابر بھی خلوص یا ایمان ہو گا وہ بھی دوزخ سے نکال لیا جائے گا ، اور جس نے یہ کلمہ کہا اور اس کے دل میں ذرہ برابر بھی بھلائی یا ایمان ہو گا وہ بھی دوزخ سے نکال لیا جائے گا ـ
ایک اور حدیث میں ایا ہے کہ :۔
جس شخص نے (دل سے) لآاِلٰہَ اِلاَّ اللّہُ کہا وہ جنت میں ضرور داخل ہو گا اگرچہ اس نے زنا اور چوری (جیسے گناہ) بھی کئے ہوں ، اگرچہ اس نے زنا اور چوری بھی کی ہو ، اگرچہ اس نے زنا اور چوری بھی کی ہو (تین مرتبہ فرمایا)
ایک اور حدیث میں ایا ہے کہ :۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :۔
تم اپنے ایمان کو تازہ کرتے رہا کرو ـ صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایمان کو کس طرح تازہ کریں ، اپ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
کثرت سے لآاِلٰہَ اِلاَّ اللّہُ کہتے رہا کرو ـ
ایک اور حدیث میں ایا ہے کہ :۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لآاِلٰہَ اِلاَّ اللّہُ کو اللّہ تک پہنچنے سے کوئی چیز نہیں روکتی ـ
ایک اور حدیث میں ہے :
لآاِلٰہَ اِلاَّ اللّہُ (کا ذکر) کوئی گناہ باقی نہیں رہنے دیتا ، اور کوئی بھی عمل اس کے برابر نہیں ہے ـ
ایک اور حدیث میں ہے کہ :۔
اگر ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں ترازو کے ایک پلڑے میں ہوں اور لآاِلٰہَ اِلاَّ اللّہُ دوسرے پلڑے میں ہو تو وہ ان سب سے بڑھ جائے گا ـ
اور ایک حدیث میں ایا ہے :۔
جب بھی کوئی بندہ دل سے لآاِلٰہَ اِلاَّ اللّہُ کہتا ہے اس کے لئے آسمانوں کے دروازے کھل جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ عرش تک پہنچ جاتا ہے ، جب تک کہ وہ بڑے بڑے گناہوں سے بچتا رہا ہو ـ
انشاُٗاللہ آئندہ تحریر میں مزید بات ہو گی ـ اللّہ اپ کا حامی و ناصر ہو اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا ہوں ـ امین ـ

Friday, 10 June 2016

یقینِ محکم

السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
خوش رہیں ، اللہ اپ سب کو اپنی حفظ و امان مین رکھے اور آسانیاں عطا فرمائے ـ امین ـ
جب اپ مشکل حالات کا مقابلہ اپنی پوری ہمت اور حوصلے سے کرتے ہیں تو خود اپنے اپ میں ایک یقین کا عنصر پیدا ہوتا ہے کچھ حاصل کر لینے کا، کچھ بننے کا عمل شروع ہوتا ہے ـ جو اپ کو کامیابی کی منزل کی طرف لے کر جاتا ہے ـ اگرچہ کامیابی کا تناسب کم ہی کیوں نہ ہو لیکن وہ جو ایک اپنی ذات میں پیدا ہونے والا یقینِ محکم ہے اس کو ختم نہ ہونے دیں ـ اگر دس میں سے ایک مشکل یا پریشانی میں ہی اپ کو کامیابی کیوں نہ ملی ہو اور کامیابی اور ناکامی کا تناسب ۱/۹ ہی کیوں نہ ہو اپ اس تناسب کو بڑھاتے ہوئے زندگی میں آگے بڑھتے جائیں اپ دیکھیں گے کہ ایک وقت آئے گا یہ تناسب ۹/۱ کا ہو گا ـ اندھیرے میں ایک چھوٹے سے دیے سے روشنی کا دھندلا سا عکس نظر آتا ہے پھر وہ عکس زیادہ واضح ہونا شروع ہوتا ہے اور پھر سب کچھ صاف نظر آنے لگتا ہے ـ کامیابی اور ناکامی میں بھی یہی فرق ہے پہلے کچھ دھندلا سا نظر آئے گا پھر اور واضح ہو گا اور پھر کامیابی سامنے نظر آنے لگے گی ـ
بس کچھ پا لینے کی جستجو ہی انسان کو آگے بڑھنے میں مدد دیتی ہے اس کو اپنی ذات سے ختم نہیں ہونے دینا ہے اور زندگی کے تمام حالات کا مقابلہ کرنا ہے کامیابی خود اپ کے قدم چومتے گی ـ
ابراہیم لنکن
جسے دنیا امریکہ جیسے ملک کے صدر کے طور پر جانتی ہے اس نے اپنی زندگی میں بہت جدوجہد کی ہے ـ جس کام کو شروع کیا ناکامی ہوئی کیا کاروبار، کیا منگنی، کیا سیاست، غرض جس کام کو شروع کیا ناکامی کا ہی منہ دیکھنا پڑا ـ لیکن اس نے ہمت ہیں ہاری ہر بار نئی ہمت اور حوصلے سے کام کیا پوری زندگی میں دو یا تین دفعہ کامیابی ہوئی باقی سب ناکامی ہی کی کہانیاں ہیں لیکن اس نے اپنے یقین کو ٹوٹنے نہیں دیا
کچھ پا لینے کا یقین
کچھ بننے کا یقین
کچھ کرنے کا یقین
اور پھر دنیا نے دیکھا کہ وہ امریکہ کا صدر بنا جو اس کی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی تھی ـ وہ ۱/۹ کی تناسب سے ملنے والی کامیابی ـ
زندگی میں جہد مسلسل سے ہی کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے ـ بس حوصلہ نہیں ہارنا اور ہمت کو ٹوٹنے نہیں دینا، تو پھر کچھ بن جانے کا یقین بڑھے گا اور اپ کامیاب ہوں گے ـ
انشاُٗاللہ آئندہ تحریر میں مزید بات ہو گی ـ اللّہ اپ کا حامی و ناصر ہو اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا ہوں ـ امین ـ

Thursday, 9 June 2016

خود اعتمادی




السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
خوش رہیں اللہ اپ سب کو اپنی حفظ و امان مین رکھے اور آسانیاں عطا فرمائے امین
جب اپ کسی مشکل میں ہوں تو اپ کے پاس دو راستے ہوتے ہیں ـ
ایک تو یہ کہ اپ کو کچھ سمجھ نہیں آتا کیا کریں ـ راستہ دیکھائی نہیں دیتا ـ کوئی ہمدرد نظر نہیں آتا جو اس مشکل سے نکلنے میں مدد کرے یا کوئی ایسا مشورہ دے کہ اپ اس پریشانی سے نکل سکیں ـ کوئی ایسا شخص مل جائے جو ایسا حل بتا سکے کہ ہم اس تکلیف دہ دور سے نکل جائیں ـ ایسے وقت میں ذہن میں منفی خیالات جنم لیتے ہیں اور اپ مزید غلط طرف چلے جاتے ہیں ـ یہ منفی سوچ منفی عمل کی طرف لے کر جاتی ہے اور شیطان کا کام آسان ہو جاتا ہے وہ ہمیں گناہوں کی طرف لے جاتا ہے ـ ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہم کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں ہیں ہماری ہمت جواب دے جاتی ہے ـ ہم جو بھی کام کرتے ہیں وہ غلط ہوجاتا ہے کیونکہ ہم غلط سوچ رہے ہوتے ہیں تو غلطی پہ غلطی ہی ہوتی جاتی ہے
لیکن
دوسری طرف اگر ہم پریشانی میں صرف پریشان ہونے کی بجائے اپنے اپ کو تھوڑا سا حوصلہ دیں کہ میں اس مشکل وقت سے نکل سسکتا ہوں اس پریشانی کا مقابلہ کر سکتا ہوں تو ہمیں کسی بھی شخص کی ضرورت نہیں ہو گی ـ مشکل وقت میں گبھرانے کی بجائے اس سے نکلنے کے بارے میں سوچیں ، مثبت انداز سے چیزوں کو دیکھیں ـ کوئی بھی مشکل ایسی نہیں ہوتی جس کا کوئی حل نہ ہو ـ یہ یقین کر لیں کہ اپ اس پریشانی سے لڑ سکتے ہیں اور پھر لڑنے کی تیاری کر لیں ـ جیسے ہی اپ نے یہ فیصلہ کیا کہ میں اس مشکل وقت سے لڑوں گا ایک خود اعتمادی کا احساس پیدا ہو گا جو اپ کو مثبت سوچ اور پھر مثبت عمل کی طرف لے کر جائے گا ـ سامنے کا راستہ نظر آنے لگے گا ـ اگر اپ پوری طرح کامیاب نہ بھی ہوں تو کسی نہ کسی حد تک کامیابی ضرور ملتی ہے جو ہماری خود اعتمادی میں اضافہ ہی کرتی ہے ـ یہ احساس پیدا کرتی ہے کہ اگر کچھ کرنے کا فیصلہ کر لیا جائے تو پھر کوئی بھی مشکل مشکل نہیں لگتی اور نہ ہی پریشانی کا خیال دل میں آتا ہے ـ نہ ہی اپ کسی دوسرے شخص کی مدد کی ضرورت محسوس کرتے ہیں جو آئے اور اپ کو اس مشکل سے نکالے ـ
اب یہ فیصلہ اپ کو کرنا ہے کہ مشکل میں کون سا راستہ اختیار کرنا ہے ـ
لڑنے اور کامیاب ہونے کا
یا
ہتھیار ڈال دینے کا
انشاُٗاللہ آئندہ تحریر میں مزید بات ہو گی اللّہ اپ کا حامی و ناصر ہو اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا ہوں امین

Tuesday, 7 June 2016

رمضان المبارک

السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
خوش رہیں اللہ اپ سب کو اپنی حفظ و امان مین رکھے اور آسانیاں عطا فرمائے امین ـ


رمضان کا بابرکت مہینہ شروع ہو چکا ہے زیادہ سے زیادہ نیکیاں سمیٹنے کا وقت ہے اللّہ کی بےشمار برکتیں ـ فضیلتیں ـ اور رحمتیں اس ماہ میں نازل ہوتیں ہیں اور منادی پکارنے والا کہتا ہے کہ ہے کوئی جو اس ماہ میں اللّہ کو
منا لے اس کی نعمتوں کو سمیٹ لے ـ
رمضان
رحمتوں کا مہینہ ـ بخشش کا مہینہ ـ گناہوں کی معافی کا مہینہ ـ نیکیوں کو سمیٹنے کا مہینہ ـ جنت کے حصول کا مہینہ ـ جہنم سے چھٹکارے کا مہینہ ـ
بس ہمیں زیادہ سے زیادہ عبادت کرنے کی ضرورت ہے تسبیحات پڑھنے کی ضرورت ہے زندگی کے تمام مسائل تو چلتے ہی رہیں گے لیکن یہ اتنا بابرکت ماہ ہے کہ نیکیوں کا اجر کئی گنا بڑھ جاتا ہے اتنا کہ اگر ہمیں اس کا پتا چل جائے تو ہم خواہش کریں کہ سارا سال رمضان کا مہینہ ہو اور روزہ اس کا اجر تو خود اللّہ کہتا ہے کہ
" روزہ میرے لیئے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا "
اپ خود سوچیں اگر ہماری نیکیوں کے اجر ستر گنا بڑھ سکتے ہیں تو اللّہ کی لامحدود برکتوں اور فضیلتوں کی ہم پر کتنی بارش ہو گی جب ہم اس کی رضا کے لئے روزہ رکھیں گےـ
لیکن ہمارا زیادہ وقت بازار سے خریداری کرنے اور سحری اور افطاری کی تیاری کرنے میں گذر جاتا ہے اگر ہم رمضان سے پہلے ہی کپڑوں کی خریداری کر لیں اور رمضان میں سادہ سحری اور افطاری کا اہتمام کریں گے تو ہمیں عبادت کرنے کا بہت وقت مل جائے گا اور روزے کا جو اصل مقصد ہے کہ غریب کی بھوک کا اندازہ ہو وہ بھی تب ہی پورا ہو گا اللّہ کی لامحدود رحمتوں اور برکتوں کو بھی تب ہی حاصل کیا جا سکتا ہے اس رمضان میں یہ ارادہ کریں کہ روزے کو اس کی مقصدیت کے ساتھ گزاریں گے تو اپ اس ماہ کا صحیح لطف لے سکتے ہیں ـ
نماز کی پابندی کریں ـ قرآن کی تلاوت کریں ـ استغفار پڑھیں ـ زیادہ سے زیادہ پہلا کلمہ پڑھیں ـ درود شریف کثرت سے پڑھیں ـ
انشاُٗاللہ آئندہ تحریر میں مزید بات ہو گی اللّہ اپ کا حامی و ناصر ہو اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا ہوں ـ

Wednesday, 1 June 2016

مثبت اندازِ زندگی


السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
خوش رہیں اللہ اپ سب کو اپنی حفظ و امان مین رکھے اور آسانیاں عطا فرمائے امین
ہمیں جب بھی کوئی پریشانی یا تکلیف ہو تو ہم شور کرنے لگتے ہیں -
ہائے پریشانی ہائے پریشانی
اور پھر یہ ہوتا ہے کہ ہماری سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے ـ ہمارا حوصلہ ٹوٹ جاتا ہے اور فیصلہ کرنے کی قوت نہیں رہتی ہے ـ پھر جب کچھ سمجھ نہیں آتا تو ہم منفی انداز سے سوچنے لگتے ہیں ـ منفی خیالات دماغ میں آنے لگتے ہیں ـ انسان کی ساری خرابی اور بربادی کا عمل یہیں سے شروع ہوتا ہے اور اپ سے ایک کے بعد دوسرا غلط عمل سرزد ہونا شروع ہو جاتا ہے
لیکن اگر
ایسے وقت میں اپنے اپ کو یہ بات سمجھائی جا سکے کہ کوئی بھی مشکل ناممکن نہیں اگر اس کے حل کی طرف جایا جائے
مثال کے طور پر اگر
اپ کو کوئی بھی مشکل یا پریشانی کا معاملہ پیش آئے تو سب سے پہلے اس کے ممکن حل کا سوچیں کہ اس کو کس طرح حل کیا جائے ـ ایک کے بعد دوسرے اور یہاں تک کہ تیسرے کے بارے میں سوچیں اور پھر اس پر عمل کرنا شروع کر دیں ـ اس کو کیسے حل کیا جائے ـ کون سے عوامل اختیار کیے جائیں کہ مشکل آسان ہو جائےـ پھر اپ دیکھیں گے کہ نہ صرف اپ کا حوصلہ بڑھے گا بلکہ زیادہ بہتر طریقے سے مشکل حالات سے نبٹا جائے گاـ مثبت سوچ اور عمل کے ساتھ آگے بڑھ سکیں گے چیزیں آسان ہونا شروع ہو جائیں گی ـ کوئی بھی تکلیف دہ عمل اپ کو ٹوٹنے نہیں دے گا ـ اپ میں قوتِ ارادی بڑھ جائے گی ـ اس طرح صحیح فیصلہ کر کے اپ خود اعتمادی کی دولت سے ہمکنار ہوں گے جو آئندہ زندگی میں بھی اپ کے کام آئے گی ـ
انشاُٗاللہ آئندہ تحریر میں مزید بات ہو گی اللّہ اپ کا حامی و ناصر ہو اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا ہوں امین

Thursday, 26 May 2016

حصہ دوم " اعمال کا دارومدار نیت پر ہے "

السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
خوش رہیں اللہ اپ سب کو اپنی حفظ و امان مین رکھے اور آسانیاں عطا فرمائے امین
اسلام ایک مکمل دین ہے ـ یہ ہمیں زندگی گزارنے کے تمام طریقے بتاتا ہے ـ روزمرہ زندگی کے سب معاملات میں ہماری رہنمائی کرتا ہے اسلام صرف
اللّہ کی عبادت کرنےکا نام نہیں ہے بلکہ یہ ہمیں سونے ، جاگنے ، کھانے ، پینے ، رزقِ حلال کمانے، شادی ، طہارت کے مسائل ، بچوں کی تعلیم و تربیت ، نیکی کرنے اور گناہوں سے بچنے، حقوق و فرائض کی ادائیگی غرض زندگی کے ہر معاملے میں ہماری رہنمائی کے لئے احکام موجود ہیں ۔ بس دیکھنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ہم ان سب پر عمل کیسے کرتے ہیں ۔ ان کو ادا کرنے کی نیت کیا کرتے ہیں
مثال کے طور پر اگر ہم سونے سے پہلے سونے دعا پڑھ کر سوئیں تو ہمارا سونا ایک عبادت میں لکھا جائے گا جب رات کو سونے کے لئے بستر پر لیٹنے لگیں تو یہ دعا پڑھنی چاہیے
اَللّٰھُمَّ بِاسٌمِکَ اَمُوٌتُ وَاَحٌیٰ
ترجمہ
اے اللّہ میں تیرے ہی نام پر مروں گا اور تیرے ہی نام پر جیتا ہوں
زندگی میں نیکی کے یہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھانا شروع کریں انشاُٗاللہ تمام کاموں میں خیر اور برکت دینے والا اللّہ ہے نیکی کے کاموں میں خودبخود دل لگنے لگے گا اور برائیوں سے نفرت ہوتی جائے گی اور اپ دیکھیں گے کہ زندگی کتنی آسان ہو گئی ہے
انشاُٗاللہ آئندہ تحریر میں مزید بات ہو گی اللّہ اپ کا حامی و ناصر ہو اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا ہوں

Sunday, 22 May 2016

اللّہ سے امید اور امت المسلمین کے لئے دعا گو

السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
خوش رہیں اللہ اپ سب کو اپنی حفظ و امان مین رکھے اور آسانیاں عطا فرمائے امین
اللّہ سے امید اور امت المسلمین کے لئے دعا گو
ہم سب کو اللّہ نیکی کرنے کی اور برائیوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ہمارے گناہوں کو معاف فرمائے امین




بِسْمِ اللهِ الَّذِیْ لَا یَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَیْءٌ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ وَ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ۔
In the name of Allah, by Whose name nothing on the earth or in the heavens can cause harm, and He is the All Knowing, the All-Hearing.
الله کے نام سے، وه ذات جس کے نام کے ساتھ کوئی چیز زمین میں اور آسمان میں نقصان نہیں دے سکتی اور وه سننے والا، جاننے والا ہے۔
اَللّٰھُمَّ عَافِنِیْ فِیْ بَدَنِیْ، اَللّٰھُمَّ عَافِنِیْ فِیْ سَمْعِیْ، اَللّٰھُمَّ عَافِنِیْ فِیْ بَصَرِیْ لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ۔ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْکُفْرِ وَ الْفَقْرِ، اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، لَا اِلٰهَ اِلاَّ اَنْتَ۔
O Allah! Grant well-being to my body, O Allah! Grant well-being to my hearing, O Allah! Grant well-being to my sight. There is no true deity except You.
O Allah! I seek refuge in You from disbelief/ingratitude and poverty. O Allah! I seek refuge in You from the punishment of the grave. There is no true deity except You.
اے الله! میرے بدن میں مجھے عافیت دے، اے الله! میرے کانوں میں مجھے عافیت دے، اے الله! میری آنکھوں میں مجھے عافیت دے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اے الله! یقینا میں تیری پناه چاہتا ہوں کفر اور فقر و فاقه سے، اے الله! بے شک میں تیری پناه چاہتا ہوں عذابِ قبر سے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔
اَللّٰھُمَّ اَنْتَ رَبِّیْ، لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ خَلَقْتَنِیْ وَ اَنَا عَبْدُکَ وَ اَنَا عَلٰی عَھْدِکَ وَ وَعْدِکَ مَا اسْتَطَعْتُ اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ اَبُوْءُ لَکَ بِنِعْمَتِکَ عَلَیَّ وَ اَبُوْءُ بِذَنْبِیْ فَاغْفِرْلِیْ اِنَّهُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ۔
O Allah! You are my Lord, there is no true deity except You. You created me and I am Your servant, I abide by Your covenant and promise to the best of my ability. I seek refuge with You from the evil of which I have committed. I acknowledge Your blessings upon me and I acknowledge my sin, so forgive me for verily none forgives sins except You.
اے الله! تو ہی میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بنده ہوں اور میں اپنی استطاعت کے مطابق تجھ سے کیے ہوئے عہد اور وعدے پر قائم ہوں، میں تیری پناه چاہتا ہوں ہر برائی سے جو میں نے کی، میں اپنے اوپر تیری عطا کرده نعمتوں کا اعتراف کرتا ہوں اور اپنے گناه کا اعتراف کرتا ہوں، پس
مجھے بخش دے، یقینا تیرے سوا کوئی گناہوں کو بخش نہیں سکتا




اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ الْعَافِیَةَ فِی الدُّنْیَا وَ الْآخِرَةِ،
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ الْعَفْوَ وَ الْعَافِیَةَ فِیْ دِیْنِیْ وَ دُنْیَایَ وَاَھْلِیْ وَ مَالِیْ، اَللّٰھُمَّ اسْتُرْعَوْرَاتِیْ وَ آمِنْ رَوْعَاتِیْ، اَللّٰھُمَّ احْفَظْنِیْ مِنْ بَیْنِ یَدَیَّ وَ مِنْ خَلْفِیْ وَ عَنْ یَّمِیْنِیْ وَ عَنْ شِمَالِیْ وَ مِنْ فَوْقِیْ وَ اَعُوْذُ بِعَظَمَتِکَ اَنْ اُغْتَالَ مِنْ تَحْتِیْ۔
O Allah! Verily I ask You for wellness in this life and in the hereafter. O Allah! I ask You for forgiveness and well-being in my religion and in my worldly affairs and in my family and my wealth. O Allah! Cover up my defects and change my fear into peace. O Allah! Protect me from front and from behind and on my right and on my left and from above and I seek refuge in Your Magnificence lest I am destroyed from beneath me.
اے الله! بے شک میں آپ سے دنیا اور آخرت میں عافیت مانگتا ہوں، اے الله! بے شک میں آپ سے درگزر کا اور اپنے دین، دنیا، اہل اور مال کی عافیت کا سوال کرتا ہوں، اے الله! میرے عیب ڈھانپ دے اور مجھے خوف سے امن دے۔ اے الله! میری حفاظت کر، میرے سامنے سے اور میرے پیچھے سے اور میرے دائیں سے اور میرے بائیں سے اور میرے اوپر سے اور میں پناه چاہتا ہوں تیری عظمت کے ذریعے اس سے که میں نیچے سے ہلاک کیا جاؤں۔
انشاُٗاللہ آئندہ تحریر میں بات ہو گی اللّہ اپ کا حامی و ناصر ہو اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا ہوں