Thursday, 21 July 2016

ہمارا عمل


السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
خوش رہیں ، اللہ اپ سب کو اپنی حفظ و امان مین رکھے اور آسانیاں عطا فرمائے ـ امین ـ



آج کل ہر شخص اس بات کا گلہ کرتا ہے کہ سب لوگوں کے طور طریقے اچھے نہیں ہیں ـ سب لوگ کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں ـ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم آج کل سوشل میڈیا پر جو بھی اچھی بات پڑھتے ہیں اس کو دوسروں کو بھیج دیتے ہیں ، لیکن خود عمل کرنے میں صفر ہیں ـ جبکہ ہمیں پہلے خود عمل کرنا چاہیے اور پھر آگے اپنے دوستوں کو بھیجیں ـ جب ہم کسی بھی اچھی بات کو پڑھیں اور خود عمل کر کے دیکھائیں گے تو پھر ثواب کے لئے دوسرے کو کہنا نہیں پڑے گا اپ کا اچھا عمل دیکھ کر دوسرے خود عمل کریں گے ـ لیکن ہم دوسرے کے عمل کر کے ثواب لینا چاہتے ہیں ـ لیکن یہ سمجھ لیں کہ اپ کو بھی ثواب تبھی ملے گا جب اپ خود اس پر عمل کریں گے ، صرف دوسروں کو نصیحت کرنے سے اثر نہیں ہو گا ، نصیحت کا اثر بھی اس وقت ہوتا ہے جب اپ خود اس پر عمل کر رہے ہوں ـ کہنا آسان ہے اور عمل کرنا مشکل ہے لیکن پہلے اپ کو خود مثال بن کر دیکھانا ہے ـ اسی وقت تو معاشرے میں تبدیلی آئے گی صرف دوسروں کو کہنے سے تو کچھ بھی نہیں ہو گا ـ

ایک دفعہ ایک عورت اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اپنے بچے کے بارے میں عرض کی کہ اپ صلی ال
علیہ وسلم اسے شہد کی ایک قسم کھانے سے منع فرمائیں ، اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو دو دن بعد آنے کے لئے کہا ـ دو دن بعد جب وہ عورت آئی تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بچے کو شہد کھانے سے منع فرمایا ، اس عورت نے عرض کیا کہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دن بعد کیوں منع فرمایا ہے تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس دن تم نے اپنے بچے کو شہد کھانے سے منع کرنے کے لئے کہا تھا تو اس دن میں نے خود بھی وہ شہد کھایا تھا تو میں بچے کو کیسے منع کر سکتا تھا اب میں نے خود بھی وہ شہد کھانا چھوڑا ہے تو تمہارے بچے کو بھی کھانے سے منع کیا ہے ـ
یہ واقعہ سنانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ہمیں بھی پہلے خود اچھی باتوں پر عمل کرنا ہو گا پھر دوسرے لوگوں کو عمل کے لئے کہا جا سکتا ہے ـ اگر اللّہ کے نبی عمل کرنے کے بعد نصیحت کر رہے ہیں تو ہمیں بھی اسی پر عمل کرنا ہو گا صرف کہنا نہیں ہے ـ
اور ایک آخری بات۰۰۰۰
جب اپ کا دوست اسی طرح کی کوئی اچھی اور نیکی کی بات اپ کو بھیجے تو کیا اپ عمل کرتے ہیں جو اپ کے دوست کے لئے ثواب کا ذریعہ بنے؟؟؟؟
سوچئے گا ضرور۰۰۰
انشاُٗاللہ آئندہ تحریر میں مزید بات ہو گی ـ اللّہ اپ کا حامی و ناصر ہو اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا ہوں ـ امین ـ

Tuesday, 19 July 2016

خاندان


السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
خوش رہیں ، اللہ اپ سب کو اپنی حفظ و امان مین رکھے اور آسانیاں عطا فرمائے ـ امین ـ
ماں ، باپ اور بچوں سے مل کر ایک خاندان بنتا ہے اور ایک گھر کی بنیاد پیار ، محبت ، بھروسہ ، سچائی، اعتماد ، ایک دوسرے کا خیال ، دکھ سکھ میں ساتھ دینا ، مشکل حالات سے مل کر لڑنا ، کندھے سے کندھا ملا کر چلنا ، انھی باتوں پر رکھی جاتی ہے ـ اسی لئے ایک گھر کو اپ (گھر پیارا گھر ) کہتے ہیں
جب اپ کے خاندان پر کوئی مشکل وقت آتا ہے، تو گھر کے تمام افراد مل کر اس مشکل وقت سے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں ، ایک دوسرے کی مدد کے لئے موجود ہوتے ہیں ـ اب چاہے وہ پریشانی سارے خاندان کے لئے ہو یا ایک فرد کی ہو سب ساتھ کھڑے ہوتے ہیں ـ ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر اس مشکل وقت سے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں ـ ایک دوسرے کی ہمت بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں ـ مشکل وقت کا ساتھ اور مدد خاندان کے افراد کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا باعث بنتی ہے ـ اور اپ کا یہ یقین بڑھ جاتا ہے کہ میں مشکل میں اکیلا نہیں ، میرے خاندان کے افراد میرے ساتھ ہیں ـ
اسی طرح جب خاندان میں خوشی کا موقع ہو تو اس وقت بھی سب ساتھ ہوتے ہیں ـ جس سے خوشی دگنی ہو جاتی ہے ـ اس وقت اپ کی پہلی خواہش بھی یہی ہوتی ہے کہ اپ اپنے خاندان کے ساتھ اپنی خوشی منائیں ۔ جس سے آپس کے پیار و محبت میں اضافہ ہوتا ہے ـ خوشی اور غم میں اپنوں کی شرکت خوشی کو بڑھا اور غم کو گھٹا دیتی ہے ـ
بس اسی پختہ یقین کی ضرورت ہے کہ خاندان کے تمام لوگ دکھ اور سکھ میں ساتھ ہوں ـ اور یہ تب ہی ممکن ہے جب گھر کے تمام افراد کا رویہ مثبت اور سوچ اچھی ہو ـ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونے کا جذبہ ہو ـ پھر کوئی پریشانی ، پریشانی نہیں رہتی اور کوئی مشکل ، مشکل نہیں لگتی ـ
انشاُٗاللہ آئندہ تحریر میں مزید بات ہو گی ـ اللّہ اپ کا حامی و ناصر ہو اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا ہوں ـ امین ـ

Sunday, 17 July 2016

درود شریف کی فضیلت

لسلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
خوش رہیں ، اللہ اپ سب کو اپنی حفظ و امان مین رکھے اور آسانیاں عطا فرمائے ـ امین ـ
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ
كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ
.إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ
كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ
.إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ

ایک اور حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپ تک درود پہونچنے کا ذریعہ بیان فرماتے ہیں : بے شک الل کے کچھ فرشتے (مامور) ہیں جو ( دنیا کی محفلوں ، مجلسوں، اور مسلمانوں کے اس پاس) گھومتے رہتے ہیں ، میری امت کے (درود) سلام میرے پاس پہنچاتے ہیں ـ
ایک اور حدیث میں ایا ہے کہ :
اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( ایک مرتبہ) جبریل علیہ السلام سے میرے ملاقات ہوئ اور انھوں نے مجھے خوشخبری سنائی اور کہا کہ : اپ کا پروردگار فرماتا ہے کہ : جو شخص اپ پر درود بھیجے گا میں ( اس پر اپنی ) رحمت (خاص) نازل کروں گا اور جو اپ پر سلام بھیجے گا اس پر خاص) سلامتی نازل کروں گا ـ تو اس پر میں نے اللہ کی بارگاہ میں سجدۂ شکر ادا کیا ـ
ایک اور حدیث میں ہے کہ حضرت ابی بن کعب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے اذکارو دعا کا ( اپنا تمام وقت) اپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنے کے لئے ہی وقف کر دیا ہے ـ اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تب تو تمہاری تمام مشکلیں حل ( اور ضرورتیں پوری) ہو جائیں گی اور تمہارے گناہ بھی معاف ہو جائیں گے ـ
ایک اور حدیث میں ایا ہے کہ :
جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا اللّٰہ تعالٰی اس پر دس رحمتیں نازل فرمائیں گےـ
ایک اور حدیث میں ایا ہے کہ :
ایک دن اپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرۂ مبارک سے خوشی اور مسرت کے آثار ظاہر ہو رہے تھے تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس ( ابھی ابھی ) جبریل آئے اور کہا : اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پروردگار نے فرمایا ہے کہ : اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا تم اس بشارت سے خوش نہ ہو گے کہ تمہاری امت میں سے جو شخص بھی تم پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا میں اس پر دس بار رحمتیں نازل کروں گا اور تمہاری امت میں سے جو شخص بھی تم پر ایک رتبہ سلام بھیجے گا تو میں دس مرتبہ سلامتی نازل کروں گا ـ
ایک اور حدیث میں ایا ہے کہ :
اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللّٰہ تعالٰی اس پر دس رحمتیں نازل فرماتے ہیں اور اس کی دس خطائیں معاف کر دی جاتی ہیں اور ( جنت میں) اس کے دس درجے بلند کر دئیے جاتے ہیں اور دس نیکیاں بھی اس کے لئے لکھ دی جاتی ہیں ـ
ایک اور حدیث میں ایا ہے کہ :
جو شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللّٰہ تعالٰی اور اس کے فرشتے اس پر ستر رحمتیں (اور رحمت کی دعائیں) بھیجتے ہیں ـ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : ہر دعا ( بارگاہ الہی تک پہونچنے سے ) رکی رہتی ہے یہاں تک کہ ( دعا کرنے والا ) اپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آل ( اہل و عیال) پر درود بھیجتا ہے ( تب بارگاہِ الہی تک پہونچتی اور قبول ہوتی ہے )
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ :
(ہر) دعا آسمان و زمین کے درمیان رکی رہتی ہے ( اللّٰہ تعالٰی کی بارگاہ تک) اس کا کوئی حصہ بھی نہیں پہونچتا، یہاں تک کہ تم اپنے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم) پر درود بھیجو ( تب وہ دعا بارگاہ الہی میں پیش اور قبول ہوتی ہے )
شیخ ابو سلیمان دارانی ( عبدالرحمٰن شامی متوفی ۲۱۵ھ ) رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا :
جب تم اللّہ تعالٰی اے (اپنی) کسی حاجت کی دعا مانگو تو اس سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجو پھر جو چاہتے ہو دعا مانگو اور آخر میں پھر درود و سلام بھیجو ـ ( یعنی ہر دوا کے اوّل و آخر درود شریف ضرور پڑھو) اس لئے کہ اللّہ سبحانہ تعالٰی ( حسب وعدہ ) اپنے کرم سے ان دونوں سروسوں کو تو قبول فرمائیں گے ہی اور ان کے کرم سے یہ بعید ہے کہ وہ انکے درمیان کی دعا کو چھوڑ دیں ( اور نہ قبول کریں )
انشاُٗاللہ آئندہ تحریر میں مزید بات ہو گی ـ اللّہ اپ کا حامی و ناصر ہو اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا ہوں ـ امین ـ

Thursday, 14 July 2016

درود شریف

السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
خوش رہیں ، اللہ اپ سب کو اپنی حفظ و امان مین رکھے اور آسانیاں عطا فرمائے ـ امین ـ
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ
كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ
.إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ
كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ
.إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
حدیث شریف میں ایا ہے کہ :
جس مجلس میں بھی لوگ جمع ہوں گے اور وہ اس میں نہ اللہ تعالٰی کا ذکر کریں گے اور نہ اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) ( علیہ افضل ا لصلوات و التسلیمات) پر درود و سلام بھیجیں گے قیامت کے دن ان کی وہ مجلس ان کے لئے ( ذکر اللہ اور درود و سلام کے ) ثواب ( سے محرومی کی وجہ سے) حسرت و افسوس کا باعث ہو گی اگرچہ وہ جنت میں بھی داخل ہو جائیں ـ
حدیث شریف میں ایا ہے کہ :
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جمعہ کے دن کثرت سے مجھ پر درود (و سلام) بھیجا کرو کیونکہ تمھارا درود (و سلام) ( جمعہ کے دن خاص طور پر) میرے سامنے پیش کیا جاتا ہے ـ
ایک اور حدیث میں ایا ہے کہ :
جو کوئی بھی شخص جمعہ کے دن مجھ پر درود بھیجتا ہے اس کا درود ( خاص طور پر ) میرے سامنے ضرور پیش کیا جاتا ہے ـ
ایک اور حدیث میں ایا ہے کہ :
جو شخص بھی مجھ پر سلام بھیجتا ہے ( خاص کر میرے روضہ پر کھڑے ہو کر) میری روح مجھ پر لوٹا دی جاتی ہے ( یعنی اس کی طرف متوجہ کر دی جاتی ہے ) یہاں تک کہ میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں ـ
ایک اور حدیث میں ایا ہے کہ
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قیامت کے دن میرے سب سے قریب وہ شخص ہو گا جس نے سب سے زیادہ مجھ پر درود بھیجا ہو گا ـ
ایک اور حدیث میں ایا ہے کہ :
اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (اصلی) بخیل وہ شخص ہے جس کے سامنے میرا ذکر ہوا اور اس نے مجھ پر درود نہ بھیجا ـ
ایک اور حدیث میں ایا ہے کہ :
کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم کثرت سے میرے اوپر درود بھیجا کرو اس لئے کہ یہ درود تمہارے ( باطن کی تطہیر کے) لیے زکوٰتہ ( پاک کرنے کا ذریعہ) ہےـ
ایک اور حدیث میں ایا ہے کہ :
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ شخص ذلیل و خوار ہو جس کے سامنے میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے ـ
ایک اور حدیث میں ایا ہے کہ :
اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص کے سامنے میرا ذکر آۓ اس کو چاہیے کہ مجھ پر درود بھیجے، اس لئے کہ جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا اللّٰہ تعالٰی اس پر دس رحمتیں نازل فرمائیں گے ـ
ایک اور حدیث میں ایا ہے کہ :
اپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : جو کوئی میرا ذکر کرے اس کو مجھ پر درود بھیجنا چاہیے ـ

نشاُٗاللہ آئندہ تحریر میں مزید بات ہو گی ـ اللّہ اپ کا حامی و ناصر ہو اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا ہوں ـ امین ـ

Friday, 1 July 2016

ذکر کی فضیلت

السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
خوش رہیں ، اللہ اپ سب کو اپنی حفظ و امان مین رکھے اور آسانیاں عطا فرمائے ـ امین ـ
حدیث شریف میں ایا ہے کہ :۔
سرور کائنات صلی اللّہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا :
کیا تم میں سے کوئ شخص ہر روز ہزار نیکیاں کمانے سے عاجز ہے؟
جو شخص سو مرتبہ سبحان اللّہ پڑھ لیتا ہے اس کے لئے ہزار نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں اور ہزار برائیاں مٹا دی جاتی ہیں
اگر صرف دو کلمات پڑھنے سے اتنا اجر مل سکتا ہے تو زیادہ کلمات پڑھنے کا کتنا ثواب ہو گا یہ تو اللّہ کی امت محمدی پر خاص عنائت ہے کہ تھوڑی سی عبادت کا اتنا زیادہ اجر رکھا ہے جس میں بہت زیادہ محنت بھی نہیں کرنی اور روز قیامت میزان پر بھاری کلمات ہوں گے اور ہماری بخشش کا ذریعہ بھی ـ
جہاں بھی ہوں اور جس وقت بھی ہو سکے ان کلمات کا زیادہ سے زیادہ ذکر کریں ورنہ کم از کم دن میں ایک دفعہ
تو ضرور پڑھیں ـ
 سبحان اللّہ
 الحمداللّہ
 اللّہ اکبر
 سبحان اللّہ وبحمد
 سبحان اللّہ العظیم
 سبحان اللہ وبحمد سبحان اللہ العظیم
 رب زدنی علما
 اللھمہ اجرنی من النار
 رب اغفر وارحم انت خیر الراحمین
 اللھمہ انا نجعلک فی نحو رحم و نعوذبک من شرورھم
 لا الہ الا انت سبحٰنک انی کنت من الظلمین
 استغفراللّٰہ الذی لا الہ الا ھو الحی القیوم واتوب الیہ
 حسبنا اللّہ و نعم الوکیل علی اللّہ توکلنا
 لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
 اشھدان لا الہ الا اللّہ وحدہ لا شریک لہ واشھدان محمدًا عبدہ ورسولہ
 سبحن اللّہ والحمد للّٰہ ولا الہ الا اللّہ واللّہ اکبر ولا حول ولا قوتہ الا باللّہ العلی العظیم
 لا الہ الا اللّہ وحدہ لا شریک لہ لہٗ الملک ولہ الحمد یحی ویمیت وھو علی کل شیٍ قدیر

ان میں سے کچھ کلمات کے پڑھنے کی فضیلت بتائی گئی ہے انشاءاللّہ باقی کلمات کی فضیلت آیندہ کی تحریر میں بتائی جائے گی ـ
انشاُٗاللہ آئندہ تحریر میں مزید بات ہو گی ـ اللّہ اپ کا حامی و ناصر ہو اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا ہوں ـ امین ـ

Wednesday, 29 June 2016

کلمہ توحید کی فضیلت

السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
خوش رہیں ، اللہ اپ سب کو اپنی حفظ و امان مین رکھے اور آسانیاں عطا فرمائے ـ امین ـ
لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ ، لہٌ الملک ولہ الحمد یحیی ویمیت وھو علی کل شئٍ قدیر
کم از کم ایک مرتبہ اور زیادہ سے زیادہ جتنا بھی ہو سکے یہ کلمہ توحید پڑھا کرے :۔
حدیث شریف میں ایا ہے کہ :۔
جو شخص اس کلمہ توحید کو دس مرتبہ پڑھے گا تو وہ اس شخص کے مانند ہو گا جس نے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی اولاد (عرب قوم) میں سے چار نفر آزاد کئے ہوں :۔
ایک اور حدیث میں ہے کہ :۔
اور جو سو مرتبہ یہ کلمہ پڑھے گا اس کو دس غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا اور اس کے لئے سو نیکیاں لکھ دی جائیں گی اور اس کی سو بدیاں مٹا دی جائیں گی اور یہ کلمہ اس کے لئے شیطان سے بچاو کا سامان (محافظ) ہو گا اور قیامت کے دن کوئی بھی اس سے افضل عمل پیش کرنے والا نہ ہو گا بجز اس شخص کے جس نے اس سے بھی زیادہ یہ کلمہ پڑھا ہو گا ـ
یہی وہ کلمہ ہے جو حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو سکھلایا تھا (مگر اس نے اس سے کام نہ لیا اور طوفان میں ہلاک ہو گیا) اس لئے کہ اگر تمام آسمان ایک پلڑے میں (رکھے) ہوں (اور یہ کلمہ دوسرے پلڑے میں) تو یہ کلمہ ان سے بڑھ جائے گا اور اگر (سب) آسمان حلقہ کے مانند ہوں تو یہ کلمہ (اپنے بوجھ سے) ان کو ملا دے گا
کثرت سے یہ کلمہ پڑھا کرے:۔
لا الہ الا اللہ واللہ اکبر ولا حول ولا قوتہ الا باللہ العلی العظیم
لا الہ الا اللہ اور واللہ اکبر دو کلمے ہیں ، ان میں سے ایک ( لا الہ الا اللہ ) تو عرش سے کہیں رکتا ہی نہیں اور دوسرا (اللہ اکبر) آسمان اور زمین کے درمیان (فضا) کو بھر دیتا ہے
یہ دونوں کلمے ولا حول ولا قوتہ الا باللہ العلی العظیم کے ساتھ (مل کر) تو روئے زمین پر جو شخص بھی ان (تینوں کلمات) کو پڑھے گا اس کی خطاؤں ( اور گناہوں) کا ضرور کفارہ کر دیا جائے گا اگرچہ وہ سمندر کے جھاگوں کے برابر ہوں ـ
انشاُٗاللہ آئندہ تحریر میں مزید بات ہو گی ـ اللّہ اپ کا حامی و ناصر ہو اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا ہوں ـ امین ـ

Tuesday, 28 June 2016

قوتِ فیصلہ کی کمی

لسلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
خوش رہیں ، اللہ اپ سب کو اپنی حفظ و امان مین رکھے اور آسانیاں عطا فرمائے ـ امین ـ
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اپ نے کوئی کام کرنا ہے لیکن اپ محسوس کرتے ہیں کہ وہ اپ سے نہیں ہو سکے گا ـ اپ خود کو اس قابل نہیں پاتے کہ اس کام کو سرانجام دیں سکیں اور ایسا تبھی ہوتا ہے جب اپ میں فیصلہ کرنے کی طاقت نہین ہوتی اور نہ ہی یقین کہ میں کر سکتا ہوں ـ
پریشانی انسان کو یا تو
توڑ دیتی ہے
یا
مضبوط بنا دیتی ہے
اوریہی وہ لمحہ ہے جب اپ کی ساری زندگی کا فیصلہ ہو جاتا ہے کہ اپ پریشانی کا مقابلہ کریں گے یا پھر کبوتر کی طرح انکھیں بند کر کے بیٹھ جائیں گے ـ اور حالات کے بدلنے کا انتظار کرتے رہیں گے ـ یقین کریں حالات کو بدلنے کوئی نہیں آۓ گا یہ اپ کو خود اپنی محنت اور بروقت فیصلہ سے بدلنے ہیں ـ
جب ایسا ہو کہ اپ کسی کام کو کرنا چاہتے ہیں لیکن کر نہیں پا رہے تو سب سے پہلے اپ یہ فیصلہ کریں کہ مجھے یہ کام کرنا ہے یا نہیں ـ
اگر کام کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو پھر اپ وہ وجوہات تلاش کریں ، جن کی وجہ سے اپ کا کام نہیں ہو رہا ـ اب ان وجوہات میں سے کچھ ایسی ہوں گی ، جو اپ کو ناممکن لگ رہی ہوں گی اور کچھ ایسی ہوں گی جو قابلِ عمل ہوں گی تو سب سے پہلے ممکن صورتِ حال سے کوشش شروع کریں ـ اپ دیکھیں گے کہ آہستہ آہستہ اپ کی قوتِ ارادی بڑھنے لگے گی اور ایک نئی ہمت اور حوصلہ پیدا ہو گا ـ ہو سکتا ہے کہ کچھ ناکامی بھی راستے میں آئے، لیکن اپ نے اس کی پرواہ نہیں کرنی اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے کامیابی کی طرف چلنا ہے کیونکہ مضبوط قوتِ ارادی کے ساتھ ہی اپ کامیاب ہوں گے ـ
اب آتے ہیں کہ اگر اپ کام نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو کیا ہو گا ـ اگر اس وقت اپ یہ سوچیں کہ زیادہ سے زیادہ کیا ہو گا مجھے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا ـ کم از کم مجھے ایک بھرپور کوشش تو کرنی چاہیے ـ ہم ناکامی کے خوف کی وجہ سے کام نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں لیکن جب اپ ناکامی کا سامنا کرنے کے لئے پہلے ہی خود کو تیار کر لیں تو زیادہ اسانی ہو گی کیونکہ اگر اپ ناکام ہوں گے تو خود کو باور کرائیں گے کہ مجھے علم تھا ـ اور اگر کامیاب ہو گئے تو یقیناً اپ میں جس خود اعتمادی کا اضافہ ہو گا وہ اپ کی آئندہ زندگی کو بنا دے گی ـ ہم ناکام ہونے کے خوف سے کوشش نہیں کرتے ، پہلے ہی کامیابی کا فیصلہ کر لیتے ہیں ـ اور ناکام ہونے پر کوشش چھوڑ کر بیٹھ جاتے ہیں ـ
تیسری چیز جو ایسے وقت میں ہماری مدد کرتی ہے وہ ہمارے ساتھ اردگرد کے لوگ ہیں جو اپ کی ہمت افزائی کریں اور فیصلہ کرنے میں مدد کریں اس بے یقینی کی صورتِ حال سے نکلنے میں مدد کریں تو بھی اپ کامیاب ہونے میں زیادہ وقت نہیں لیں گے ـ کیونکہ ناکامی کے وقت وہ اپ کو حوصلہ دیں گے اور کامیابی میں ہمت افزائی کریں گے ـ
انشاُٗاللہ آئندہ تحریر میں مزید بات ہو گی ـ اللّہ اپ کا حامی و ناصر ہو اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا ہوں ـ امین ـ